شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 12
شعب ابی طالب 12 تھے اب اس میں صرف تمہارے ظلم و جفا اور زیادتیوں کا تذکرہ رہ گیا ہے۔اگر اب بات اسی طرح ہے جیسے میرے بھتیجے نے بتائی ہے تو معاہدہ ختم ہو جاتا ہے اور ایک اور روایت میں ہے کہ تو پھر تم اپنی رائے سے باز آجاؤ لیکن اگر تم باز نہ آئے تو بھی خدا کی قسم جب تک ہم میں سے آخری آدمی زندہ ہے ہم محمد کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے اور اگر میرے بھتیجے کی بات غلط نکلی تو ہم اس کو تمہارے حوالے کر دیں گے پھر تم چاہے اس کو قتل کرو چاہے زندہ رکھو۔اس پر قریش نے کہا ہمیں تمہاری بات منظور ہے اب انہوں نے عہد نامہ کھول کر دیکھا تو انہیں معلوم ہوا کہ ابو طالب جو خبر لائے تھے وہ بالکل صحیح ہے یہ دیکھ کر اکثر نے کہا۔یہ تمہارے بھتیجے کا جادو ہے ایک حدیث میں آتا ہے کہ جب مشرکوں نے حلف نامے کو ابو طالب کی اطلاع کے مطابق دیمک خوردہ پایا تو ان سے کہا ”اے گروہ قریش ہمیں کس بنیاد پر محصور کیا جا رہا ہے اور کس لئے اس گھاٹی میں قید کیا جا رہا ہے جبکہ معاملہ صاف ہو گیا اور یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ حقیقت میں اس ظلم وزیادتی اور سختی کے سزاوار تم ہو۔اس کے بعد ابوطالب اور اُن کے ساتھی کعبے کے غلاف میں گھس گئے اور وہ یہ کہتے جاتے تھے۔”اے اللہ جن لوگوں نے ہم پر ظلم کیا جنہوں نے ہماری حق تلفی کی اور ہم پر ناحق