شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف

by Other Authors

Page 11 of 36

شعبِ ابی طالب و سفرِ طائف — Page 11

شعب ابی طالب 11 چنانچہ وہ لوگ گھائی سے روانہ ہوئے اور ڈرتے ڈرتے مسجد حرام تک پہنچے۔قریش نے ان لوگوں کو دیکھا تو وہ یہ سمجھے کہ یہ لوگ مصیبتوں سے گھبرا کر نکل آئے ہیں تا کہ رسول کریم صلی یا پیام کوقتل کرنے کے لئے مشرکوں کے حوالے کر دیں یہاں پہنچ کر ابو طالب نے ان لوگوں سے گفتگو کی اور کہا ہمارے اور تمہارے درمیان معاملات بہت طول اختیار کر گئے ہیں اس لئے اب تم لوگ وہ حلف نامہ لے آؤ ممکن ہے تمہارے اور ہمارے درمیان صلح کی کوئی شکل نکل آئے۔ابو طالب نے اصل بات بتانے کی بجائے یہ بات اس لئے کہی تھی کہ کہیں قریش حلف نامہ سامنے لانے سے پہلے اس کو دیکھ نہ لیں کیونکہ اس کے بعد وہ اس کو لے کر ہی نہ آتے غرض وہ لوگ حلف نامہ لیکر آگئے اور اب انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں رہا تھا کہ رسول الله سلیس تم کو ان کے حوالے کر دیا جائے گا کیونکہ یہ تمام عہد و پیمان اور حلف نامے آنحضرت سالی یا یہ تم کی وجہ سے ہوئے تھے۔حلف نامے کی تحریریں لا کر انہوں نے سامنے رکھ دیں اور ابوطالب اور ان کے ساتھیوں کو ڈانٹتے ہوئے کہنے لگئے ”تم لوگوں نے ہمارے اور اپنے اوپر جو مصیبت ڈالی تھی آخر اب اس سے پیچھے ہٹتے ہی بنی ابو طالب نے کہا میں تمہارے پاس ایک انصاف کی بات طے کرنے آیا ہوں جس میں نہ تمہاری بے عزتی ہے اور نہ ہماری۔وہ یہ ہے کہ میرے بھتیجے یعنی آنحضرت صلی شما یہ تم نے بتایا ہے کہ اس حلف نامے پر جو تمہارے ہاتھوں میں ہے اللہ تعالیٰ نے ایک کیٹر ا مسلط فرما دیا ہے جس نے س کے تمام حصے چاٹ لئے ہیں سوائے اس کے جہاں اللہ تعالیٰ کے نام لکھے ہوئے