شرح القصیدہ — Page 72
شرح القصيده ۷۲ بننا چاہتا ہے اور بلندی کو چھوڑ کر پستی کو اختیار کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی فتح مکہ بھی ایک واضح دلیل ہے۔جب حضور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاتحانہ شان سے اس میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ (۳۶۰) بنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے انسان کے قعر مذلت سے نکل کر اوج عزت تک جو اس کا اصل مقام ہے پہنچنے کا راستہ کھول دیا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ سَيّدِنَا مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلِّمْ - جس طرح حضور کا بتوں کو توڑ نانسلِ انسانی کی رفعت شان کا موجب ہوا اسی طرح نفسانی خواہشات کو مٹانا اس کی روحانی ترقیات اور تعلق باللہ کے رشتہ کی مضبوطی کا باعث۔فِي وَقْتِ تَرْوِيقِ اللَّيَالِي نُورُوا وَالله نَجَاهُم مِّنَ القُوْفَانِ معانی الالفاظ۔تَرْوِيْقُ رَوَّقَ اللَّيْلُ : مَدَّ رُوَاقُ ظُلْمَتِهِ کہ رات نے اپنی تاریکی کا پردہ لمبا کیا۔ترجمہ۔وہ راتوں کی تاریکی کے وقت منو ر ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں طوفان ( ظلمت وضلالت ) سے نجات دی۔