شرح القصیدہ — Page 71
شرح القصيده 21 اس شعر میں نفسانی خواہشات کے مٹانے کو بنوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو نہایت نادر و نفیس تشبیہ ہے۔بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے اور فرمایا ہے وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ (بنی اسراء بل:۷۱)۔ہم نے انسانوں کو بہت معزز اور مکرم بنایا ہے اور اُسے عظیم الشان طاقتیں عطا کی ہیں۔آسمانوں اور زمینوں ، سورج چاند اور ستاروں ، نہروں دریاؤں اور سمندروں ،ٹیلوں اور سر بفلک پہاڑوں کو اس کے لئے مسخر کر دیا ہے۔اور جو چیزیں بھی آسمان وزمین میں پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب انسان کے فائدے کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔گویا وہ اللہ تعالیٰ کا محکوم ہے اور باقی سب کا ئنات اس کی محکوم ہے۔جیسا کہ کارگاہ عالم پر کسی گہری نظر رکھنے والے نے انسان کو مخاطب کر کے کہا ہے۔ابر و باد و مه و خورشید و و فلک در کارند تا تو نانے بکف آری و غفلت نه خوری ہمہ از پہر تو سرگشته سرگشته و فرماں بردار شرط انصاف نه باشد که تو فرماں نہ بری مگر اس پر بھی حالت یہ ہے کہ انسانوں ہی کا ایک حصہ اپنے ہاتھوں طرح طرح سے انسانیت کی مٹی پلید کرتا چلا آیا ہے۔کوئی پتھروں کے آگے ماتھا ٹیکتا ہے، کوئی سورج کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہے، کوئی چاند یا کسی اور چیز کو حاجت روا سمجھتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں شرک کرنے والوں کی مثال ایک ایسے شخص سے دی ہے جو آسمان سے زمین پر گر پڑے۔کیونکہ شرک کرنے والا مخدوم ہو کر خود خادم