شرح القصیدہ — Page 73
شرح القصيده ۷۳ شرح۔اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت کی ظلمت و تاریکی کی شدت کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ حقیقت موافق و مخالف دونوں کو مسلم ہے کہ آپ کے زمانے میں ایک عالمگیر تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔(دیکھو شرح شعر نمبر ) ١٥ قَد هَاضَهُمْ ظُلْمُ الأنَاسِ وَ ضَيْبُهُمْ فَتَتَبَّتُوا بِعِنَايَةِ بِعِنَايَةِ الْمَثَّانِ معانی الالفاظ - قاضه : كشرة و قشته۔اُس کو ٹکڑے ٹکڑے اور چور چورکرد یا۔ضَيْم ظلم۔اس کی جمع ضُیوم ہے۔عِنَايَة : حفاظت۔کہتے ہیں عَلَى اللهُ بِهِ عِنَايَةً أَى حَفِظَهُ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کی۔ترجمہ۔مخالف جماعتوں کے ظلم وستم نے اُن کو چور چور کر دیا۔مگر وہ خدائے متان کی حفاظت سے ثابت قدم رہے۔شرح۔اوائل میں اسلام کے حلقہ بگوش ہونے والوں پر جس قدر ظلم وستم ہوئے ان کی نظیر پہلی قوموں میں شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے۔پرکاش دیو جی جو برہمو سماج لاہور کے پر چارک تھے اپنی کتاب ”سوانح عمری حضرت محمد ”صاحب“ میں لکھتے ہیں :