شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 5 of 198

شرح القصیدہ — Page 5

شرح القصيده لے كَانَتْ رَوِيَّتِي النَّاضِبَةُ " ضَلِيْعَ هَذَا الْمِضْمَارِ "۔وَمَنْبَعَ تِلْكَ الْأَسْرَارِ بَلْ كُلَّمَا قُلْتُ فَهُوَ مِن رَّبِّي الَّذِي هُوَ قَرِيْنِي وَ مُؤْيْدِيَ الَّذِي هُوَ مَعِيَ فِي كُلِّ حِينِي الَّذِي يُطْعِمُنِي ويَسْقِيْنِي وَ إِذَا ضَلَلْتُ فَهُوَ يَهْدِيْنِي وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِي مَا كَسَبْتُ شَيئًا مِنْ مُلَحِ الْآدَبِ وَ توَادِرِ هِ وَلَكِن جَعَلْنِي اللهُ غَالِباً عَلَى قَادِرِهِ۔وَهَذِهِ آيَةٌ مِّنْ رَّبِّي لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ۔وَ إِنِّي أَظْهَرْتُهَا وَ بَيَّنُهَا لَعَلَّى أَجْزِى جَزَاءَ الشَّاكِرِينَ۔- وَلَا أَلْحَقُ بِالَّذِينَ لَا يَشْكُرُونَ 66 آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۰ ) ترجمہ۔یہ ایک عمدہ اور لطیف قصیدہ ہے جو ادبی لطائف اور عربی زبان کے نفیس جواہر ریزوں سے پر ہے اور میرے آقا اور سردار دو جہان حضرت خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں لکھا گیا ہے جن کی تعریف اللہ تعالیٰ نے کتاب مبین میں بیان فرمائی ہے اے اللہ! ان پر قیامت تک تیری رحمت اور سلامتی نازل ہو۔اور یہ قصیدہ میری رُکی ہوئی طبیعت اور کبھی ہوئی ذہانت و فطانت کا رہین منت نہیں اور نہ میرا خشک ملکہ غور و خوض ل الرَّويَّةُ الروٹی کی مؤنث ہے۔باتوں میں غور و خوض کرنے کی قوت سے النَّاضِب خشک غَدِير ناب - وہ تالاب جس میں پانی نہ رہے۔اس کی جمع نُصب ہے۔سے الضَّلِيعُ۔قوی مضبوط پسلیوں والا۔اس کی جمع ضلع ہے۔سہ المضمار۔گھوڑ دوڑ کے لئے کھلی وسیع جگہ۔وہ مقام جہاں گھوڑے سدھائے جاتے ہیں۔میدان۔ه الملح - عمدہ اور لذیز باتیں۔اس کی واحد ملعةٌ ہے۔1 النَّوَادِرُ۔اس کا واحد نادر اور نَادِرَةٌ ہے۔النَّادِرُ مِنَ الْكَلِمِ : کمیاب کلمات جو شاذ اور خلاف قیاس ہوں۔توادِرُ الْكَلَام سے مراد وہ عجیب وغریب کلام ہے جو صیح ہو اور اپنے اندر جذت رکھے۔کہتے ہیں هُوَ نَادِرَةُ الزَّمَانِ آنی وَحِيْدُ عَصْرِہ۔یعنی وہ یکتائے روزگار ہے۔