شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 4 of 198

شرح القصیدہ — Page 4

شرح القصيده القصيدة عنوان بالا کے تحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قصیدہ رقم فرمانے سے پہلے مندرجہ ذیل عبارت لکھی ہے :۔" هَذِهِ الْقَصِيْدَةُ آنِيَقَةُ ، رَشِيْقَةٌ مَمْلُوةٌ مِّنَ اللَّطَائِفِ الْآدَبِيَّةِ وَ الْفَرَائِدِ الْعَرَبِيَّةِ فِي مَدْحِ سَيْدِ الثَّقَلَيْنِ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ مُحَمَّدٍ الَّذِي وَصَفَهُ اللهُ فِي الْكِتَابِ الْمُبِينِ اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الدِّينِ وَلَيْسَتْ هَذِهِ مِنْ فَرِيحَتى " الْجَامِدَةِ * وَ فِطْنَتِي * الْخَامِدَ ةِ - وَمَا اے عمدہ۔پسندیدہ سے رشيق القيّ - جس کا قد نہایت عمدہ اور لطیف ہو اور ہلکا پھلکا ہو۔الرشيقُ مِنَ اللفظ أو الخط: الظريف۔یعنی جب لفظ یا خط کے لئے ریشیق کا لفظ بولا جائے تو مراد خوبی اور عمدگی ہوتی ہے۔سے الْفَرَائِدُ الفرید کی جمع ہے جس کے معنے یکتا اور بے مثل کے ہیں۔نیز موتی اور نفیس جو ہر کو بھی کہتے ہیں۔الفَرِيدَةُ واحد مؤنث ہے جس کے معنے نفیس جوہر کے ہیں۔اس کی جمع بھی القرائد ہے۔سے الْقَرِيحَةُ - طبیعت ، شاعر اور کاتب کی قريحة سے مراد عمدہ نظم ونث لکھنے کا ملکہ ہے اس کی جمع قرائج ہے۔لے جامِدَةٌ۔خشک، غیر متحرک۔کہتے ہیں جَمَدَتِ اللَّهُ آئی يَبِسَت یعنی خون خشک ہو گیا۔اور جمدَ الْمَاءُ : قام یعنی پانی جم گیا اور ایک جگہ ٹھہر گیا ت الفظنة فہم، ذہانت و طباعی، دانائی عقلمندی۔اس کی جمع فطن ہے۔کے الخامِدَةُ - خَمَدَتِ النَّارُ اس وقت کہتے ہیں جب آگ میں شعلہ نہ ہے لیکن انگارہ بھی بجھانہ و عمدت الحملی اس وقت کہتے ہیں جب بخارکی تیزی اور جوش ٹھنڈا پڑ جائے۔