شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 47 of 198

شرح القصیدہ — Page 47

شرح القصيده ۴۷ اور جیسے مسیح ناصری علیہ السلام روحانی مردے زندہ کرتے تھے ویسے ہیں آپ کے پیر و مُردہ دلوں کو زندہ کرتے اور انہیں روحانی زندگی بخشنے والے جام پلاتے ہیں۔چنانچہ حضرت شیخ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ علیہ اپنے عیسی ثانی ہو جانے کے متعلق اپنے دیوان میں فرماتے ہیں ؎ دید دمبدم روح القدس اندر معینے مے من نمی گوئم مگر من عیسی ثانی شدم اور مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللہ علیہ مثنوی میں فرماتے ہیں عیسیم لیکن ہر آن کو یافت جاں از دم من او بماند جاوداں شد ز عیسی زنده لیکن باز مرد شاد آں کو جاں بدیں عیسی سپرد ان اشعار میں مولانا رومی نے اپنے آپ کو عیسی قرار دے کر کہا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے تو جو مُردے زندہ کئے تھے وہ تو پھر مر گئے لیکن وہ خوش ہو جس نے اپنے آپ کو مجھ عیسی کے سپرد کیا کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔چونکہ صاحب قصیدہ کے ممدوح ملک حُسن و احسان کے سورج تھے اس لئے دنیا کی کوئی چیز آپ کی محبت کے راستے میں روک نہیں بن سکتی تھی اور نہ دنیا کا کوئی اور دلبر آپ کی محبت میں رخنہ انداز ہوسکتا تھا۔اس لئے آپ فرماتے ہیں۔بسے سہل ست از دنیا بریدن بیاد حسن و احسان محمد بدیگر دلبری کاری ندارم که هستم کشته آن محمد آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۴۹)