شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 48 of 198

شرح القصیدہ — Page 48

شرح القصيده ۴۸ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان یاد کر کے ساری دنیا سے قطع تعلق کر لینا میرے لئے بہت آسان ہے اور کسی اور معشوق سے مجھے کوئی واسطہ نہیں ہے کیونکہ میں تو محمد کی آن کا کشتہ ہوں۔۴۔قَوْم رَءَوكَ وَ أُمَّةٌ قَد أُخْبِرَتْ مِنْ ذلِكَ الْبَدرِ الَّذِي أَصْبَانِي معانی الالفاظ - أضبان : أضفى القيء فلانا کے معنے ہیں اس أَصْبَى چیز نے فلاں کو اپنا مشتاق اور فریفتہ بنالیا۔ترجمہ۔ایک قوم تیری رؤیت سے مشرف ہوئی اور ایک جماعت نے اس بدر کی خبر سُنی جس نے مجھے اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔شرح۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ آپ عالم روحانی کے سورج ہیں تو پھر وہ تو میں جو آپ سے پہلے گزر چکیں اور وہ جو آپ سے پیچھے آئیں گی آپ کے نور سے کیوں محروم کی گئیں ؟ اس سوال کا اس شعر میں یہ جواب دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات ہر زمانے سے تعلق رکھتی ہیں۔زمانہ ماضی کے ساتھ اس طرح که گزشتہ اقوام کے انبیاء نے اللہ تعالیٰ سے علم پا کر آپ کے ظہور کی خبر دی۔چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (استثناء ۱۸/۱۸ ) میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے بھائیوں یعنی بنی اسمعیل میں سے میری مانند ایک نبی مبعوث فرمائے