شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 46 of 198

شرح القصیدہ — Page 46

شرح القصيده کے متعلق فرماتے ہیں ۴۶ صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہ ذقن و آن مسیح ناصری شد از دم او بے شمار آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کا یہ عالم ہے کہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کی مثل ( جوحسن و جمال میں ضرب المثل ہیں ) لاکھوں یوسف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہ ذقن میں دیکھتا ہوں۔ایک مطلب تو یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن لاکھوں یوسف پر فائق ہے۔دوسرا یہ کہ لاکھوں یوسف باوجود اپنے کمال حسن کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن پر نثار اور حضور کی محبت کے اسیر ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا احسانِ روحانی اس قدر عام اور بلند ہے کہ حضور کے دم یعنی انفاس طیبہ کی برکت سے آپ کی امت میں سے بے شمار مسیح ہو چکے اور ہوں گے اور جو روحانی شربت موسیٰ اور عیسی “ اور دوسرے انبیاء کو پلایا گیا آپ کے کامل متبعین۔وہی شربت نہایت کثرت سے ، نہایت لطافت سے ، نہایت لذت سے پیتے ہیں اور پی رہے ہیں۔اسرائیلی ٹوران میں روشن ہیں۔بنی یعقوب کے پیغمبروں کی اُن میں برکتیں ہیں۔سُبْحَانَ اللهِ ثُمَّ سُبحان الله حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کس شان کے نبی ہیں اللہ اللہ کی عظیم الشان نور ہے جس کے ناچیز خادم ، جس کی ادنیٰ سے ادنی امت ، جس کے احقر سے احقر چاکر مراتب مذکورہ بالا تک پہنچ جاتے ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۴۶، روحانی خزائن جلد ا صفحه ۲۷۲ حاشیہ نمبر ۱۱)