شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 41 of 198

شرح القصیدہ — Page 41

شرح القصيده ۴۱ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّلِحِينَ (النساء:۷۰) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی اطاعت سے آئندہ روحانی انعامات ملیں گے اور روحانیت کے مراتب اربعہ نبوت ، صدّیقیت ، شہادت اور صالحیت صرف انہیں کو حاصل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پوری اطاعت کریں گے اور وہ کامل علم کا ذریعہ جس سے تمام شکوک و شبہات دور ہو جاتے ہیں اور جس سے عرفانِ الہی حاصل ہوتا ہے یعنی انعام مکالمہ ومخاطبہ الہیہ وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین کو حاصل ہوگا۔دوسرے تمام اہلِ مذاہب ہندو ہوں یا موسائی ، زرتشتی ہوں یا بدھ کے شیدائی ، عیسائی ہوں یا کسی اور مذہب کے پیرو ہوں اس نعمت عظمی سے محروم رہیں گے۔اور واقعہ یہ ہے کہ اسلام کے سوا باقی سب مذاہب مکالمہ و مخاطبہ الہیہ کا دروازہ بند کر چکے ہیں اور اپنے آپ کو اس نعمت عظمیٰ سے محروم قرار دے چکے ہیں۔لیکن یا درکھنا چاہئے کہ ان کا یہ محروم رہنا خود انہی کی کرتوت یعنی صراط مستقیم سے گریز و اجتناب کے نتیجہ میں ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ انسان کے دل میں اپنے محبوب کے دیدار اور اس کا پُر لذت اور پر شوکت کلام سننے کی زبر دست خواہش پائی جاتی ہے۔اور کامل معرفت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اپنے کانوں سے اپنے ازلی محبوب کی میٹھی اور پیاری آواز نہ سُن لی جائے۔اور اللہ تعالیٰ کے نیچے عاشق اور اس کے حقیقی دلدادہ اس بات پر کہاں راضی ہو سکتے ہیں کہ وہ اس کے آستانہ پر سر رکھ کر شب و روز روئیں اور گڑ گڑا ئیں اور نہایت تضرع اور عاجزی سے دعائیں کریں، چیچنیں چلائیں اور انتہائی سوز و گداز سے اُس کو پکاریں لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب نہ پائیں۔اللہ تعالیٰ کا کوئی عاشق صادق