شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 40 of 198

شرح القصیدہ — Page 40

شرح القصيده روحانیت مفقود ہو چکی تھی۔تعلق باللہ کے نشانات کسی مذہب میں موجود نہ تھے۔روحانیت کے سب چشمے ختم ہو چکے تھے۔یہ حالات تھے جن میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کی طرف مبعوث کر کے اعلان فرمایا۔۔وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا لِنُحْيِيَ بِهِ بَلْدَةً مَّيْتًا وَنُسْقِيَهُ مِمَّا خَلَقْنَا أَنْعَامًا وَأَنَاسِي كَثِيرًا - (الفرقان: ۵۰،۴۹) یعنی ہم نے آسمان سے مصفا اور مطہر پانی اتارا ہے تا کہ ہم اس کے ذریعہ مردہ شہر کو زندہ کریں۔مراد یہ ہے کہ مردہ قوم عرب اس پانی سے روحانی زندگی پائے گی۔فرمایا اور اسی طرح ہم یہ پانی ایسی قوموں کو پلائیں گے جو اس وقت حیوانات کی سی زندگی بسر کر رہی ہیں۔اور اسی طرح بہت سے اُن لوگوں کو بھی پلائیں گے جن میں تمدن و تہذیب پائی جاتی ہے۔جس سے انہیں عرفانِ الہی حاصل ہوگا اور وہ اپنی زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب پیدا کر کے اپنے ازلی محبوب سے تعلق پیدا کر لیں گے۔چنانچہ آپ ہی کی غلامی اختیار کر کے دنیا کی مختلف اقوام کے لوگ فیوض روحانیہ اور مکاشفات اور مکالمات و مخاطبات الہیہ سے مشرف ہوئے۔اور آپ کی بعثت کے بعد قیامت تک کے لئے یہ قرار پایا کہ اب کوئی شخص خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو بجز آپ کی مطابعت اور پیروی کے انعامات الہیہ سے حصہ نہیں پاسکتا اور انعام پانے والے گروہ میں شامل نہیں ہو سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ