شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 42 of 198

شرح القصیدہ — Page 42

شرح القصيده ۴۲ کبھی اس کو گوارا نہیں کر سکتا۔اس کی عاشقانہ فطرت سے کبھی یہ طلب دُور نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنے محبوب از لی کا روح افزا اور تسلی بخش کلام سُنے۔اس کے دل کی گہرائیوں سے یہ صدائے خاموش بلند ہوتی رہتی ہے۔چنانچہ کہا گیا ہے۔عشق مے خواهد کلام یار را رو پرس از عاشق این اسرار را اور چونکہ اللہ تعالیٰ کا عاشق اور اس کے اسرار عشق کا واقف اور اس کے طالبوں کو اس کے ملانے کا ماہر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر کوئی نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے حضور سے اپنے طالبوں کی فطرتی آواز کا یہ جواب دلوایا ہے:۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ ( ال عمران : ۳۲) اے اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت کا دعویٰ کرنے والو! اگر تم اپنے دعوی میں صادق ہو اور تمہارے دلوں میں اس ازلی محبوب سے ملنے کی تڑپ ہے تو آؤ میری پیروی کرو میں تمہیں تمہارے محبوب سے ملا دوں گا اور اس وصل و تقرب کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ تمہیں اپنا محبوب بنالے گا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَلَى فَإِنِّي قَرِيبٌ ، أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔(البقرة: ۱۸۷) اے محمد رسول اللہ ! جب میرے بندے مضطر ہو کر اور ہمہ تن التجا بن کر تجھ سے میرے بارہ میں دریافت کریں تو تو ان سے کہہ دے کہ میں یقیناً قریب ہوں۔جب پکارنے والا مجھے پکارے تو میں اُسے جواب دیتا ہوں۔