شرح القصیدہ — Page 39
شرح القصيده ۳۹ ساری زمین پر خطر ناک ظلمت چھائی ہوئی تھی۔زمانہ شب تاریک و بیم موج و گرداب چنیں بائل کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ہندوستان جو زمانہ قدیم میں مذہب کا گہوارہ رہ چکا تھا ن بیت تو کیا انسانیت بھی کھو بیٹھا تھا۔برہمنوں نے جو مذہبی لیڈر تھے ایک بہت بڑے طبقہ کو جو کروڑوں نفوس پر مشتمل تھا اچھوت قرار دے دیا تھا۔وہ ابدی ناپاک سمجھے جاتے تھے۔برہمنوں کا دور دورہ تھا وہ جو چاہتے کرتے تھے۔ان کا گناہ گناہ نہیں بلکہ ثواب سمجھا جاتا تھا۔مندروں کے مہنت اور پجاری دیوتاؤں کی طرح پوجے جاتے تھے اور عیش وعشرت میں مست تھے۔رقص و موسیقی کو انہوں نے عبادت میں داخل کر لیا تھا۔اس لئے مندروں کی حالت حد درجہ نا گفتہ بہ تھی۔وہ فسق و فجور کے اڈے تھے۔اور عوام الناس کی بھی دینی حالت حد درجہ گر چکی تھی۔پتھروں اور درختوں وغیرہ کی پرستش سے تسلی نہ پا کر عورتوں اور مردوں کے شہوانی قومی تک کی پرستش جاری ہو چکی تھی۔عیسائیوں کے گرجوں کی حالت ہندوؤں کے مندروں سے بہتر نہ تھی۔وہ بھی فسق و فجور کے اڈے تھے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان راہبوں اور راہبات کی حالت جنہوں نے خدا تعالیٰ کے لئے دنیا کو تیاگ دینے کا عہد کیا تھا آكثَرُهُمْ فَاسِقُونَ بیان فرمائی ہے۔یعنی ان کی اکثریت بدکار ہو چکی ہے اور نحن ابناء الله وَاحِباءُ کا نعرہ لگانے والوں کے متعلق فرماتا ہے۔جعل مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتِ (المآئدۃ: ۶۱) کہ وہ بندروں کی طرح نقال اور ذلیل اور اخلاقی لحاظ سے خنزیروں کی طرح بے حیا اور شہوت پرست تھے۔یہ تو علماء کی حالت تھی۔عوام کی حالت یہ تھی کہ وہ طاغوت یعنی حدود الہی توڑنے اور اللہ تعالیٰ سے سرتابی کرنے والوں کے پرستار اور عبد بن چکے تھے۔