شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 2 of 198

شرح القصیدہ — Page 2

شرح القصيده کا چہرہ مبارک خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا کہ یہ قصیدہ جناب الہی میں قبول ہو گیا اور خدا نے مجھ سے فرمایا کہ جو اس قصیدہ کو حفظ کرے گا اور ہمیشہ پڑھے گا میں اس کے دل میں اپنی اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا اور اپنا قرب عطا کروں گا۔“ میرے دل میں اس مبارک قصیدہ کی شرح لکھنے کا شوق تو اب سے تقریباً تیں سال پہلے پیدا ہوا تھا لیکن میں اس طویل عرصہ میں اپنے اس شوق کو پورا کرنے کی ابتدا بھی نہ کر سکا۔گزشتہ سال ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں ارادہ کیا اور مشکل الفاظ کے معانی بھی نوٹ کئے لیکن شرح شروع کرنے کی نوبت پھر بھی نہ آئی۔اس سال ماہ فروری میں بعارضہ پلورسی اور ذیا بیطس بیمار ہو گیا اور سوا دو مہینے تک میو ہسپتال لاہور میں زیر علاج رہ کر طبی مشورہ کے مطابق موسم گرما گزارنے کے لئے کوئٹہ میں آگیا۔یہاں میں نے آج ( ۲۹ جون ۱۹۵۶ء مطابق ۱۹ / ذیقعده ۱۳۷۵ھ بروز جمعۃ المبارک دورکعت نفل اور نماز عصر ادا کرنے کے بعد اپنے آقا ومولیٰ سید المرسلین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ستر مرتبہ درود پڑھ کر اس قصیدہ کی شرح لکھنے کی نیت سے یہ الفاظ بطور تمہید سپر قلم کئے ہیں اور یہ عزم کیا ہے کہ اس قصیدہ انیقہ کی شرح لکھنے سے پہلے دو رکعت نفل اور ستر مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج لیا کروں۔میں اللہ تعالیٰ سے نہایت عجز والحاح سے دعا کرتا ہوں کہ اے مولیٰ ! جس طرح تو نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں قصیدہ لکھنے پر حضرت علامہ محمد البوصیری رحمتہ اللہ علیہ کو ایک لمبی بیماری سے شفا عطا فرمائی تھی اسی طرح اس