شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 182 of 198

شرح القصیدہ — Page 182

شرح القصيده ۱۸۲ جوتشی۔جفری۔بھنگڑ۔ارڈ پوپو۔مکار۔جھوٹا۔فریبی۔ملعون۔- اعور الدجال۔بے ایمان۔روسیاہ۔ظلام - افاک - مفتری علی اللہ۔مور د ہزار لعنت۔دہریہ۔جہان کے احمقوں سے زیادہ احمق۔جس کا خدا شیطان۔یہودی۔جس کی جماعت بدکردار۔زانی۔شرابی۔حرامخور۔اس کے پیر وخران بے تمیز وغیرہ۔(اشاعۃ السنہ جلد ۱۴، ۱۸۹۳ء) آپ فارسی قصیدہ میں اس تکفیر و تکذیب کی شکایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اس طرح کرتے ہیں۔آنچه ما را از دو شیخ شوخ آزاری رسید یا رسول الله بپرس از عالم ذو الاقتدار حال ماؤ شوخی ایس ہر دو شیخ بد زبان جمله میداند خدائے حال دان و بردبار نام من دجال و ضال و کافرے نہاده اند نیست اندر زعم شاں چوں من پلید وزشت و خوار بهیچ کس را بر من مظلوم و همگیں دل نہ سوخت جز تو کاندر خوابها رحمت نمودی بار بار آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۸) یعنی ہمیں ان دو موذی مولویوں ( یعنی مولوی نذیر حسین دہلوی اور محمد حسین بٹالوی) سے جو آزار پہنچے ہیں اے رسول اللہ ! آپ اس کا حال بڑے اقتدار والے علیم وخبیر سے پوچھ لیجئے ہمارے حال اور ان دونوں شیخوں کی شوخی سب کو واقف الحال و بردبار خدا خوب جانتا ہے۔انہوں نے میرا نام دجال و گمراہ اور کا فر رکھ چھوڑا ہے۔اور ان کے خیال میں میری طرح اور کوئی ناپاک ، بد اور ذلیل نہیں۔مجھ مظلوم اور غمگین کے لئے کسی کا دل نہ جلا سوائے تیرے جس نے خوابوں میں مجھ پر بار بارمہر بانی فرمائی۔