شرح القصیدہ — Page 183
شرح القصيده ۱۸۳ يَفْرِى سِهَامُكَ قَلْبَ كُلِّ مُحَارِبٍ وَ يَشُجُ عَزْمُكَ هَامَةَ النُّعْمَانِ معانی الالفاظ - يفری - قری سے مضارع کا صیغہ ہے۔اس نے کا ٹایا چیرا پیشنج۔زخمی کرتا ہے یا پھوڑتا ہے۔هَامَةٌ کھو پری یاجہ۔الشُّعْبَانُ - اثر رہا۔سانپ نرومادہ دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس کی جمع ثعابين ہے۔ترجمہ۔تیرے تیر ہر محارب کے دل کو چیرتے ہیں اور تیرا عزم اثر د ہے کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔شرح۔اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کرنے کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا تعلق اس قسم کا ہے کہ آپ کا کوئی دشمن سزا سے نہیں بچ سکتا۔مجھے کا فر کہنے والے اور آپ کا دشمن قرار دینے والے اگر صادق ہیں تو میں تباہ ہو جاؤں گا لیکن اگر وہ میری تکفیر و تکذیب میں جھوٹے ہیں اور میں تیرا عاشق صادق ہوں تو تیری عنایات و تو جہات انہیں بے سزا نہیں چھوڑیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔آج ان مکفرین علماء کا کوئی نام لیوا نہیں۔وہ دنیا سے ایسے مٹ گئے کہ ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔مولوی محمد حسین بٹالوی جس نے تکفیر کا بیڑا اٹھایا تھا اور علمائے پنجاب و ہندوستان سے شہر بہ شہر جا کر فتوای تکفیر حاصل کیا تھا