شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 164 of 198

شرح القصیدہ — Page 164

شرح القصيده ۱۶۴ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سُن کر یا دکر لی۔پس میں ہر ایک شخص کو اس دن اس آیت کو تلاوت کرتے ہوئے سنتا تھا۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے جب یہ آیت پڑھی تو اُسے سُن کر مجھے اتنا صدمہ ہوا کہ میں کھڑا نہ رہ سکا اور زمین پر گر گیا اور میں نے سمجھ لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع وفات پاچکے ہیں۔رض اگر اُس وقت حضرت عمرؓ یا کسی اور صحابی کا یہ ایمان ہوتا کہ حضرت عیسی آسمان پر بجسد عصری زندہ موجود ہیں تو وہ یہ کہنے سے کس طرح رک سکتے تھے کہ حضرت عیسیٰ بھی تو رسول ہی تھے وہ کیسے زندہ ہیں ؟ لیکن کسی صحابی نے یہ نہیں کہا اور تمام صحابیوں خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ نہ کہنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا اس دلیل سے کہ آپ سے پہلے آنے والے تمام رسول وفات پاچکے ہیں یقین کر لینا اس امر کی دلیل قطعی ہے کہ تمام صحابہ جس طرح ان سب رسولوں کی وفات کے قائل تھے اسی طرح حضرت مسیح کی وفات کے بھی۔تاریخ جب ہم تاریخ اسلامی پر نظر ڈالتے ہیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے اگر کوئی شخص عیسائی خیالات کے اثر سے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بارے میں شبہ بھی رکھتا ہو تو رکھتا ہولیکن آپ کی وفات پر تو کسی کو بھی یہ شبہ باقی نہیں رہا اور تمام صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی وفات کا پوری صفائی کے ساتھ کامل یقین ہو گیا۔