شرح القصیدہ — Page 165
شرح القصيده ۱۶۵ مرتدین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو آپ کی تکذیب کی وجہ بنالیا تھا اور وہ کہتے تھے لَو كَانَ مُحَمَّدٌ نَبِيًّا لَمَا مَاتَ - اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی ہوتے تو وفات نہ پاتے۔اس کا جواب قرآن مجید سے یہی دیا گیا کہ آپ سے پہلے جس قدر بھی انبیاء آئے وہ سب وفات پاچکے ہیں۔اس لئے آپ کا وفات پا جانا بھی آپ کی شانِ نبوت کے منافی نہیں۔مر مخالفین کا فتنہ تمام قبائل میں پھیل گیا۔اور اس بناء پر کہ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نبی تھے تو فوت کیوں ہو گئے ؟ اہلِ بحرین وحظم وغیرہ قبائل مرتد ہو گئے۔چنانچہ مشہور مؤرخ ابن جریر الطبری جارود بن معلی کے قبیلے عبد القیس کے متعلق لکھتے ہیں کہ :- ” انہیں اسلام میں داخل ہوئے تھوڑی ہی مدت ہوئی تھی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو ان کے قبیلے عبدالقیس نے کہا کہ اگر محمد نبی ہوتے تو وہ کبھی فوت نہ ہوتے اور سب مرتد ہو گئے۔جب اس کی اطلاع جارود کو ہوئی تو انہوں نے سب کو جمع کیا اور کہا۔اے گروہ عبد القیس ! میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں اگر تم اسے جانتے ہو تو بتانا۔انہوں نے کہا جو چاہو پوچھو۔جارود نے کہا جانتے ہو کہ گزشتہ زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے نبی دنیا میں آچکے ہیں۔انہوں نے کہا۔ہاں۔جارود نے کہا پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا وہ فوت ہو گئے۔جارود نے کہا۔اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی انتقال فرما گئے جس طرح سابقہ انبیاء دنیا سے اُٹھ گئے۔میں اعلان کرتا ہوں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَ أَنَّ