شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 163 of 198

شرح القصیدہ — Page 163

شرح القصيده ۱۶۳ ہوتی ہے کیونکہ وہ بھی اُن رسولوں میں شامل ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہو چکے ہیں۔اجماع صحابہ صحیح بخاری میں لکھا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے اور آپ کی وفات کی خبر مدینہ میں پھیلنی شروع ہوگئی تو صحابہ کو آپ کی وفات کا یقین نہیں آتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ جوکوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت شدہ کہے گا میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔تب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُس روز ایک خطبہ پڑھا جس میں آپ نے فرمایا:۔وو مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ قَالَ اللهُ وو 66 " وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ الآية۔یعنی جو تم میں سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عبادت کرتا تھا تو وہ سُن لے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو فوت ہو چکے ہیں۔اور جو تم میں سے اللہ کا پرستار ہے تو اللہ تعالیٰ یقیناً ہمیشہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اللہ تعالیٰ کے ایک رسول ہیں اور آپ سے پہلے جس قدر رسول آئے وہ وفات پاچکے ہیں۔(اور یہ آیت پوری پڑھ کر سنائی ) بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے فَتَلَقَّاهَا النَّاسُ كُلُّهُمْ فَمَا اسْمَعُ بَشَرًا مِّنَ النَّاسِ إِلَّا يَتْلُوهَا کہ یہ آیت تمام لوگوں نے حضرت