شرح القصیدہ — Page 159
شرح القصيده ۱۵۹ شرح۔ان اشعار میں زیادہ تر روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے ہیں اور کسی نامعلوم زمانے میں اُن کے آسمان سے اُترنے کے قائل ہیں۔اور یہ عقیدہ عیسائیوں کولوگوں کے گمراہ کرنے میں پوری مدد دینے والا ہے۔صاحب قصیدہ اپنے ایک فارسی قصیدہ میں فرماتے ہیں ؎ مسیح ناصری را تا قیامت زنده می فهمند مگر مدفون میثرت را ندادند این فضیلت را ز بوئے نافہ عرفاں چو محروم ازل بودند پسندیدند در شان شر خلق این مذلت را ہمہ ڈر ہائے قرآن را چو خاشا کے بیفکندند علم ناتمام شاں چہا گم گشت ملت را ہمہ عیسائیاں را از مقال خود مرد دادند دلیری با پدید آمد پرستاران میت را آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶) یعنی یہ لوگ مسیح ناصری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں۔مگر مدفون یثرب یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت نہیں دیتے۔چونکہ یہ لوگ نافۂ عرفان کی خوشبو سے ازلی محروم تھے۔اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں یہ ذلت پسند کر لی۔قرآن کریم کے تمام موتیوں کو کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک دیا۔ان کے ناقص علم کی وجہ سے ملتِ اسلام کا کس قدر نقصان ہوا۔انہوں نے اپنے اس عقیدہ سے تمام عیسائیوں کی مدد کی اس وجہ سے مردہ پرستوں میں بھی دلیری آگئی۔