شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 145 of 198

شرح القصیدہ — Page 145

شرح القصيده الدو اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہیے اور اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تا نظر زمانی صحیح ہوسکتی ہے مگر میں جانتا ہوں کہ اہلِ اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہوگی۔“ تحذیر الناس صفحہ کے شائع کردہ مکتبہ قاسم العلوم ہے۔ون ۱۴۰ کراچی نمبر ۳۱، اشاعت یکم جولائی ۱۹۷۶ء) پھر آیت خاتم النبیین کا یہ حاصل مطلب لکھتے ہیں: ابوت معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو لفظ خاتم النبیین شاہد ہے۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۱۸ شائع کردہ مکتبہ قاسم العلوم ہے۔ون ۱۴۰ کراچی نمبر ۳۱، اشاعت یکم جولائی ۱۹۷۶ء) پھر لکھتے ہیں۔اگر خاتمیت بمعنی اوصاف ذاتی بوصف نبوت لیجئے جیسا اس ہیچمدان نے عرض کیا ہے تو پھر سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی کو افراد مقصود با خلق میں سے مماثل نبوی نہیں کہہ سکتے بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کی افراد خارجی ہی پر آپ کی افضلیت ثابت نہیں ہوگی بلکہ افراد مقدرہ پر بھی آپ کی افضلیت ثابت ہو گی۔بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۴۶ شائع کردہ مکتبہ قاسم العلوم ہے۔ون ۱۴۰ کراچی نمبر ۳۱، اشاعت یکم جولائی ۱۹۷۶ء) اس شعر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل ہونے کا ذکر ہے کیونکہ آپ