شرح القصیدہ — Page 146
شرح القصيده ۱۴۶ مستجمع جمیع صفات کا ملہ مقربانِ الہی ہیں اور افضلیت میں زمانہ کو دخل نہیں بلکہ فضیلت کمالات اور اچھے کارناموں پر موقوف ہے۔اس لئے آپ خواہ کسی زمانہ میں ہوتے اور آپ کے بعد کتنے ہی مقربانِ الہی ہوتے آپ اُن سب سے افضل ہی رہتے۔٥٠- وَ الظُّلُ قَدْ يَبْدُو أَمَامَ الْوَابِلِ فَالظُّلُ طَلْ لَيْسَ كَالتَّهْتَانِ معانی الالفاظ الکل۔ہلکی بارش یا شبنم۔اس کی جمع طلال اور ظلل ہے۔وَابِل : سخت بارش - الفتانُ : موسلا دھار بارش کا ہونا جو پے در پے ہوتی ہے۔ترجمہ۔اور موسلا دھار بارش سے پہلے ہلکی بارش (پھوار ) آتی ہے لیکن پھوار پھوا رہی ہے وہ موسلا دھار کی مانند نہیں ہوسکتی۔شرح۔اس شعر میں اس سوال کا جواب دیا ہے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی تمام مقتر بانِ بارگاہ الہی سے افضل ہیں تو پھر ان انبیاء کے متعلق کیا کہتے ہیں جو آپ سے پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث کئے گئے ؟ آپ فرماتے ہیں ان کی مثال اس ہلکی بارش کی سی ہے جو بڑی بارش کے آنے کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور وہ بتاتی ہے کہ اب بڑی بارش ہونے والی ہے۔اسی طرح پہلے انبیاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشخبری دینے کے لئے آئے تھے اور ان کا وجود علامت تھی اس امر کی کہ نبیوں کا سردار ، رسولوں کا سرتاج خاتم الانبیاء سید الانس والجان حضرت محمد مصطفیٰ