شرح القصیدہ — Page 144
شرح القصيده ۱۴۴ سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتے ہیں: ” ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار ، رسولوں کا فخر ، تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اُس سے ہزار برس 66 تک نہیں مل سکتی تھی۔(سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۸۲) اور دوسرے مصرعہ میں فضیلت کی یہ وجہ بیان فرمائی ہے کہ پہلے یا پیچھے ہونا کوئی فضیلت کا باعث نہیں بلکہ فضیلت کمالات اور اعلیٰ درجہ کے نافع اعمال پر موقوف ہے۔یہی بات خَاتَمَ النَّبِيِّين کے معنے بیان کرتے ہوئے مولا نا محمد قاسم نانوتوی بانی دارالعلوم دیو بند نے اپنی کتاب ”تحذیر الناس میں لکھی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اول معنے خاتم النبیین کے معلوم کرنے چاہئیں تا کہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیائے سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں۔مگر اہلِ فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم یا تأخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقامِ مدح میں وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا ہے۔ہاں اگر