شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 140 of 198

شرح القصیدہ — Page 140

شرح القصيده ۴۷- ۱۴۰ والله إنَّ مُحَمَّدًا كَرِدَافَةٍ وَ بِهِ الْوُصُولُ بِسُدَّةِ السُّلْطَانِ معانى الالفاظ - رِدَافَة : الْإِسْمُ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ فِي زَمَنِ الجاهلية۔یعنی جاہلیت میں بادشاہ جو اپنا ردف بناتے تھے اس سے اسم ہے اور اس کے ایک معنے اُس سوار کے ہیں جو دوسرے سوار کے پیچھے سوار ہو۔اور زمانہ جاہلیت میں ردف بادشاہ کا جلیس ہوتا تھا جو اُس کے دائیں جانب بیٹھتا اور بادشاہ کے پینے کے بعد پیتا۔اور جنگ کے زمانہ میں بادشاہ کا قائم مقام ہوتا تھا اور جب بادشاہ کا کوئی لشکر فتح پا کر واپس آتا تو اس سے غنیمت کا چوتھا حصہ وصول کرتا تھا۔اور اس کی جمع ارداف ہے۔لسان العرب میں ہے۔اِرْدَافُ الْمُلُوكِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانُوا يُخْلِفُوْنَهُمْ فِي الْقِيَامِ بِأَمْرِ الْمَمْلَكَةِ بِمَنْزِلَةِ الْوُزَرَاءِ في الإسلام یعنی زمانہ جاہلیت میں بادشاہوں کے ارداف امور مملکت کے سرانجام دینے میں اُن کے قائم مقام یا جانشین ہوتے تھے جیسے کہ وزراء زمانہ اسلام میں۔اس کی واحد ردف اور اسم رِدَافَةٌ ہے۔جیسے وزیر سے وزارت۔سُنَّةٌ : بَابُ الدَّارِ - گھر کا دروازہ۔دہلیز۔ترجمہ۔اللہ تعالیٰ کی قسم ایقینا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت خلیفہ اللہ کی ہے اور آپ ہی کے ذریعہ در باریشا ہی تک رسائی ہوسکتی ہے۔