شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 139 of 198

شرح القصیدہ — Page 139

شرح القصيده ۱۳۹ انبیائے سابق کے فیض سے اُن کے متبعین روحانیت کے صرف تین مراتب حاصل کر سکتے تھے۔وہ صدیق بن سکتے تھے ، شہید بن سکتے تھے ، صالح بن سکتے تھے۔لیکن سید الانبیاءمحمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ کے وسیلہ و طفیل سے آپ کے ایک امتی کو عند الضرورت مقام نبوت بھی حاصل ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔یہ عجیب بات ہے کہ ہمارے سید ومولا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جس قدر خدا تعالیٰ کی طرف سے نشان اور معجزات ملے وہ صرف اُس زمانہ تک محدود نہ تھے بلکہ قیامت تک اُن کا سلسلہ جاری ہے اور پہلے زمانوں میں جو کوئی نبی ہوتا تھا وہ کسی گزشتہ نبی کی اُمت نہیں کہلاتا تھا گواُس کے دین کی نصرت کرتا تھا اور اُس کو سچا جانتا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت اُن پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ اُن کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی اُمت سے باہر ہو بلکہ ہر ایک کو جو شرف مکالمہ الہیہ ملتا ہے وہ انہیں کے فیض اور انہیں کی وساطت سے ملتا ہے اور وہ امتی کہلاتا ہے نہ کوئی مستقل نبی۔“ چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۰)