شرح القصیدہ — Page 141
شرح القصيده ۱۴۱ شرح۔یہ شعر در حقیقت آيت دَنا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او آڈٹی ( النجم : ۹ ، ۱۰ ) کی تفسیر ہے۔یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سیر الی اللہ کرتے کرتے کامل طور پر متخلق باخلاق اللہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے قریب ہو گئے۔پھر آپ کی ترقی ہوئی یعنی خلق اللہ کی طرف نزول کیا اور لوگوں کی اصلاح اور اُن کی بھلائی میں بدل و جان مصروف ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اس جگہ ایک ہی دل میں ایک حالت اور نیت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا۔ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجود قدیم ہے اور ایک اُس کے بندوں کی طرح جو وجود محدث ہے۔اور دونوں قسم کا وجود قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ وجوب اور طرفِ اسفل امکان ہے۔اب اس دائرہ کے درمیان میں انسانِ کامل بوجہ دنو اور تدلی کی دونوں طرف سے اتصال محکم کر کے یوں مثالی طور پر صورت پیدا کر لیتا ہے جیسے ایک وتر دائرے کے دو قوسوں میں ہوتا ہے۔یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہر جاتا ہے۔پہلے اس کو دنو اور قرب الہی کی خلعت خاص عطا کی جاتی ہے اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور پھر خلقت کی طرف اس کو لایا جاتا ہے۔پس اس کا وہ صعود اور نزول دو قوس کی صورت میں ظاہر ہو جاتا ہے اور نفس جامع التعلقین انسان کامل کا ان دونوں قوسوں میں قاب قوسین کی طرح ہوتا ہے اور