شرح القصیدہ — Page 134
شرح القصيده ۱۳۴ سے یہ عقیدہ تھا کہ یسوع مسیح ۱۹۵۴ء میں آسمان سے اُتریں گے۔وہ اس کے متعلق بہت سے اشتہارات بھی شائع کر چکے تھے۔شرائط مباحثہ مختصراً یہ طے پائی تھیں کہ ایک جمعہ کو وہ قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر جو اعتراضات کرنا چاہیں کریں میں اُن کا جواب دوں گا اور ایک جمعہ کو میں عیسائیت پر اعتراضات کروں گا اور وہ جواب دیں گے۔یہ مباحثہ ہر دفعہ تین گھنٹہ ہوا کرتا تھا۔تقریریں دس دس منٹ کی ہوتی تھیں۔حاضرین کو بھی سوال کرنے کا حق ہوتا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ مباحثات نہایت کامیاب رہے اور آخر کار مسٹر گرین نے اپنی شکست تسلیم کر لی اور مباحثہ کرنا چھوڑ دیا۔ایک دن انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یسوع کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یسوع مسیح نہایت بلند پایہ اخلاق رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے جبکہ وہ صلیب پر لٹکائے جاچکے تھے یہود کے لئے جو آپ کے جانی دشمن تھے ان الفاظ میں دعا کی۔”اے میرے باپ تو انہیں بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے“۔یعنی عدم علم کی وجہ سے وہ مجھ سے ایسا سلوک کر رہے ہیں۔اس قسم کا اخلاق کا نمونہ کسی نبی نے نہیں دکھایا اور ن محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے۔میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنہیں ہم اللہ تعالیٰ کا رسول اور نبی مانتے ہیں اخلاق فاضلہ رکھتے تھے لیکن یہ کہنا کہ دوسرے انبیاء اخلاق فاضلہ میں اُن کے ہم پلہ نہ تھے درست نہیں۔مسٹر گرین کا یہ کہنا کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی کوئی مثال قائم نہیں کی تاریخ اسلامی سے ناواقفیت کے سبب سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی غزوہ اُحد میں پتھروں سے زخم آئے اور آپ بیہوش ہو کر گر پڑے اور کفار نے مشہور کر دیا ”قتل محمد “ کہ