شرح القصیدہ — Page 135
شرح القصيده ۱۳۵ (صلی اللہ علیہ وسلم ) قتل کر دیئے گئے ہیں۔ہوش میں آنے پر آپ اپنے زخموں سے خون پونچھتے جاتے اور یہ کہتے جاتے تھے اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اے میرے اللہ ! تُو میری قوم کو ہدایت دے کیونکہ وہ نہیں جانتے یعنی عدم علم کی وجہ سے مجھ سے ایسا سلوک کر رہے ہیں۔دونوں مقدس نبیوں کی دعا ئیں اس لحاظ سے تو یکساں معلوم ہوتی ہیں کہ اُن میں اپنے اپنے دشمنوں کی بھلائی چاہی گئی ہے لیکن درحقیقت دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔حضرت مسیح کی دعا تو ان یہود کا قصور بخش دیئے جانے کے متعلق ہے جو اُن کے صلیب پر لٹکائے جانے کا موجب تھے۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا صرف یہی نہیں تھی کہ جن دشمنوں نے آپ کو مجروح کیا تھا اُن کا گناہ بخش دیا جائے بلکہ آپ کی دعا یہ تھی کہ اے میرے رب تو ان کو ہدایت عطا فرما۔یعنی جو نعمت مجھے بخشی ہے وہی انہیں بھی بخش۔سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حضرت مسیح علیہ السلام کی دعا پر جتنی عظیم الشان فوقیت رکھتی ہے وہ ” عیاں را چہ بیاں“ کی مصداق ہے اور جب ہم دونوں دعاؤں کے نتائج کو دیکھتے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی اور زیادہ شان بڑھ جاتی ہے۔انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح سے یہود نے جو سلوک کیا تھا اُس کی سزا آنجناب نے یہ بتائی کہ اُن سے آسمانی بادشاہت چھین لی جائے گی اور وہ فی الحقیقت چھین لی گئی تو اس سے یہ کیسے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کی دُعا قبول ہو کر یہود کا گناہ بخش دیا گیا تھا۔بلکہ اس سے تو یہ معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کے آڑے وقت کی دعا بھی قطعا قبول نہیں ہوئی اور یہود کا گناہ ہرگز نہیں بخشا گیا۔اگر بخش دیا گیا ہوتا تو آسمانی بادشاہت اُن سے کیوں چھینی جاتی ؟ اور