شرح القصیدہ — Page 133
شرح القصيده ۱۳۳ کہ آپ کا ایک ادنی سا اشارہ اُن کے سر قلم کر دیئے جانے کے لئے کافی تھا لیکن آپ نے انہیں کوئی سخت لفظ بھی نہ کہا بلکہ صرف یہ دریافت فرمایا۔" مَاذَا تَظُنُّونَ أَنِّي فَاعِلُ بِكُمْ “ بتاؤ تمہارا کیا خیال ہے۔میں تم سے کیسا معاملہ کروں گا؟ انتہائی شرم و ندامت سے سر جھکائے ہوئے انہوں نے جواب دیا ہم آپ سے اُسی سلوک کی توقع رکھتے ہیں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔اس جواب پر آپ نے ان کی تمام ستمگاریوں اور ایذاء رسانیوں کو نظر انداز کر کے فرمایا:۔" لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ وَ هُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ - اذْهَبُوا أَنْتُمُ الطَّلَقَاءِ جاؤ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔اللہ تعالیٰ تمہارے قصور معاف فرمائے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔جاؤ ! تم سب آزاد ہو۔“ حدیث میں آتا ہے کہ وہ مسجد الحرام سے ایسے نکے لَا نَمَا خَرَجُوا مِنَ الْقُبُورِ گو یا وہ قبروں سے نکلے ہیں۔اور سب کے سب مسلمان ہو گئے۔فاتحین ممالک میں اس قسم کے عفو عام کی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح دشمن سے حسن سلوک ، بددُعا کی جگہ اس کے لئے دُعا۔اس کی بدی کے بدلے میں نیکی و احسان نہایت بلند پایہ اخلاق میں سے ہیں۔لندن میں ۱۹۴۵ء سے اوائل ۱۹۴۶ ء تک تقریباً ایک سال سے زائد مدت تک مسٹر گرین اور میرے درمیان ہائیڈ پارک میں ہر جمعہ کو مباحثہ ہوتارہا۔مسٹر گرین کا بائیبل کے حسابات کی رُو