شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 120 of 198

شرح القصیدہ — Page 120

شرح القصيده ۱۲۰ کہ کہتے رہتے ہیں۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ واجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا (الفرقان : ۷۵ ) یعنی اے ہمارے رب ! تو ہماری بیویوں اور ہماری اولادوں کو روحانیت کے سانچے میں ایسا ڈھال کہ وہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا موجب ہوں اور ہمیں متقیوں کا امام اور پیشوا بنا۔اس آیت میں اُن کے روحانی کمال کا ذکر کیا ہے کہ اُن کی زندگی تقوی اور روحانیت کے ایسے اعلیٰ مقام پر پہنچ چکی ہے کہ غیر متقی کی صحبت اُن کے لئے ناقابلِ برداشت ہے۔وہ اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں کہ اُن کے ساتھی ، ان کے رشتہ دار اور تعلق و قرابت والے سب متقی اور پاک ہوں۔اس انقلاب نے اُن کے ذہنوں کے تصورات اور نگاہوں کے زاویے اور فکر ونظر کے اسلوب یکسر بدل دیئے۔اُن کی صدیوں سے مری ہوئی قوتیں زندہ ہوگئیں اور ایک عالم کی زندگی کا باعث بنیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ ذیل شعروں میں اسی غیر معمولی اور بے نظیر انقلاب کا ذکر فرمایا ہے۔کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک ٹور تھے قوم وحشی سے اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سرحد سے یا از زنجبار