شرح القصیدہ — Page 119
شرح القصيده 119 لیکن وہ اُسے دیکھ نہ سکے اور واپس چلے گئے۔بعد میں مرشد دوبارہ اُس قیدی کے پاس گیا اور اُسے اپنے ساتھ مدینہ لے آیا۔یہ واقعہ ” لا يَزْنُونَ “ کی ایک زبردست شہادت ہے۔ایک عورت جو کنچنی ہے اور اسلام سے پہلے اُس کی یارِ غار رہ چکی تھی ، وہ اپنے پاس شب باشی کے لئے ملاتی ہے اور وہ اپنی جان کو خطرے میں دیکھتے ہوئے بھی انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا حرام کر دیا ہے اس لئے اب میں اس کے قریب نہیں جاسکتا۔(سنن نسائی کتاب النکاح باب تزويج الزانية ) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا (الفرقان : ۷۳) وہ لوگ جن کی یہ حالت تھی کہ جھوٹ اور سچ میں کوئی تمیز نہیں کرتے تھے اب وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور نہ ہی جھوٹے معاہدات کرتے ہیں۔اور جب لوگ لغو کاموں میں مشغول ہوں تو وہ اُن کے ساتھ شامل نہیں ہوتے۔پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو پہلے نہ حق بات سنتے تھے نہ اُسے سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اب اُن کی یہ حالت ہے۔وَالَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِأَيْتِ رَبِّهِمُ لَمْ يَخِرُّوا عَلَيْهَا صُمَّا وَعُمْيَانًا (الفرقان : ۷۴) کہ جب اُنہیں اُن کے رب کی آیات یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ خوب غور و فکر سے اُن پر عمل کرتے ہیں بہروں اور اندھوں کی طرح اُن پر نہیں گرتے۔جاہلیت میں وہ ناپاکی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔روحانیت کا نام ونشان نہ تھا لیکن اب وہ پاکیزگی، روحانیت ،تقویٰ، پرہیز گاری اور طہارت کے ایسے عاشق ہیں