شرح القصیدہ — Page 118
شرح القصيده ۱۱۸ والے تو مٹ گئے ، اُن کا کوئی نام و نشان نہ رہا لیکن حضرت خبیب ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں۔کشتگان خنجر تسلیم را ہر زمان از غیب جان دیگر است پھر جاہلیت میں وہ رہزن اور قزاق تھے۔معمولی معمولی باتوں پر اُن میں جنگ چھڑ جاتی جو مہینوں اور سالوں تک جاری رہتی لیکن اسلام اختیار کرنے کے بعد ان کی یہ حالت ہوگئی وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ (الفرقان :۶۹) که وہ کسی ایسے نفس کو جس کا قتل اللہ تعالیٰ نے اس شریعت میں جائز قرار نہیں دیا قتل نہیں کرتے۔پہلے اُن کے نزدیک زنا، بدکاری وغیرہ باعث فخر تھے۔لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد وہ زنا کے قریب بھی نہیں جاتے۔مرشد الغنوی ایک مضبوط جوان مرد تھے۔مکہ سے مسلمان قیدی چھڑا کر مدینہ لے جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ جب انہوں نے ایک قیدی کو آواز دی تو مکہ کی ایک کنچنی جس کا نام عناق تھا اور مرتد کی دوست رہ چکی تھی ادھر آنکلی۔مرشد کو دیکھ کر اُسے اھلاً وَ مَرْحَبًا کہا اور بصد اصرار کہا کہ آج رات میرے پاس گزارو۔مرشد نے اُسے جواب دیا۔اے عناق ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا حرام کر دیا ہے۔جب اُس نے دیکھا کہ مرشد انکار پر مُصر ہے تو اُس نے شور مچا دیا اور کہا لوگو! یہ ہے وہ شخص جو تمہارے قیدی چرا کر لے جاتا ہے۔مرثد وہاں سے بھاگ کر خنذ مہ پہاڑ کی ایک غار میں چھپ گئے۔آٹھ شخص آپ کی تلاش میں نکلے اور وہ اُس غار کے پاس پہنچے اور بعض نے اُن میں سے وہاں پیشاب کیا جو مر حمد پر گرا