شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 117 of 198

شرح القصیدہ — Page 117

شرح القصيده 112 ہوئی کہ چودہ سو سال کے لمبے عرصے میں پھر کبھی رونما نہیں ہوسکی۔اور توحید الہی اُن کے رگ وریشہ میں ایسی سرایت کر گئی کہ انہوں نے دین کی اشاعت کے لئے ہر قسم کے مظالم اور مصائب برداشت کئے۔حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشرکوں نے ایک موقعہ پر قید کر لیا تھا۔جب اُن کے قتل کئے جانے کا مقررہ وقت آ گیا اور انہوں نے اپنا سر قتل کے لئے جلا د کے سامنے رکھ دیا تو جلا د کے تلوار چلانے سے پہلے انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔وَ لَسْتُ أَبَالِي حِينَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا على آتِي جَنبِ كَانَ لِلهِ مَصْرَعى و ذلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَ إِنْ يَشَا يُبَارِك على أَوْصَالِ شِلُو مُمَزَّع جبکہ میں مسلم ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس امر کی کچھ پرواہ نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کی خاطر قتل کے وقت کس پہلو پر گرتا ہوں اور یہ میرا قتل ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہے اگر وہ چاہے تو میرے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکت نازل فرمائے گا۔“ حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آخری شعر کو ختم کرنا تھا کہ جلاد کی تلوار اُن کی گردن پر پڑی اور سرتن سے جُدا ہو گیا۔یہ بڑا ہی دردناک و دلگد از منظر تھا۔جولوگ اس واقعہ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے تھے اُن میں سے ایک سعید بن عامر بھی تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔جب کبھی اُن کے سامنے حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کا ذکر ہوتا تو اُن پر غش آجایا کرتا تھا۔حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل کرنے