شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 116 of 198

شرح القصیدہ — Page 116

شرح القصيده جاہلیت میں انہیں آخرت کا کوئی خیال نہ تھا۔ان کا مقولہ تھا۔کھاؤ پیو اور عیش اڑاؤ کل تو مر ہی جانا ہے۔یا پنجابی مثل ایہہ جگ میٹھاتے اگلا کن ڈھا“ کے مطابق اپنی زندگی گزارتے تھے۔اس لئے ان کے نزدیک گناہ کوئی قابل سزا چیز ہی نہ تھی لیکن اسلام لانے کے بعد اُن کی حالت یہ ہو گئی کہ وہ اپنے رب سے دُعا کرتے ہیں۔ربَّنَا اصْرِفُ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ (الفرقان : ۶۶ ) اے ہمارے رب ہمیں جہنم کے عذاب سے بچانا۔گویا اب انہیں ہر وقت آخرت کا خیال رہتا ہے۔جاہلیت میں تو وہ رسم و رواج ، راگ و رنگ ، نام و نمود اور عیاشی و بد قماشی میں مال برباد کرنے میں تو آنا و لا غیرتی کا دم بھرتے تھے۔لیکن غریبوں اور مسکینوں، بیواؤں اور یتیموں پر خرچ کرنے سے مرتے تھے۔یہی تھے جو اسلام کے بعد آخر يُسْرِفُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا (الفرقان :۶۸) کہ نہ وہ بے جا خرچ کرتے ہیں اور نہ ہی نیکی کے کاموں میں بخل سے کام لیتے ہیں۔اب اُن کا انفاق مال دونوں حالتوں کے درمیان حد اعتدال پر ہے۔زمانہ جاہلیت میں سارا جزیرۂ عرب بت پرستی و بدمستی ، دغا و فریب اور قتل و غارت وغیرہ کے بحر ذخار میں از سرتا پا غرق تھا بت پرستی کی یہ حالت تھی کہ ہر قبیلہ کا ایک علیحدہ بہت تھا۔تین سو ساٹھ بت تو خانہ کعبہ میں نصب تھے اور قریش بت پرستی کو اپنی زندگی اور موت کا سوال سمجھتے تھے۔وہ کہتے تھے إِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدَى مَعَكَ نُتَخَطَّفُ مِنْ أَرضِنَا (القصص : ۵۸)۔اگر ہم اسلام قبول کر لیں اور بت پرستی چھوڑ دیں تو پھر ہمارا زمین میں کوئی ٹھکانا ہی نہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بت پرستی سرزمین عرب سے ایسی نابود