شرح القصیدہ — Page 115
شرح القصيده ۱۱۵ ”خبردار کوئی ہم پر جہالت نہ کرے۔یعنی ہم سے نہ الجھے ورنہ ہم جاہلوں کی جہالت سے بڑھ کر جہالت کا مظاہرہ کریں گے۔“ لیکن عباد الرحمن کے گروہ میں داخل ہونے کے بعد وہ جہالت کا جواب سلام سے دیتے ہیں۔وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان: ۶۴) کہ جب انہیں جاہل یعنی لڑائی پر اکسانے والے یا موجب غضب و اشتعال حرکات کرنے والے خطاب کرتے ہیں تو وہ جوابا کہتے ہیں کہ ہم تو صلح و سلامتی اور امن کے خواہاں ہیں اور کسی حالت میں بھی شر پسند نہیں کرتے۔پھر فرمایا کہ وہ لوگ جو زمانہ جاہلیت میں کے نوشی ، قمار بازی ، عورتوں سے معاشقہ ، رقص وغنا اور لہو و لہب میں اپنی راتیں گزارتے تھے اب انہوں نے مصائب سے کنارا ہی نہیں کیا بلکہ يَبِيتُونَ لِرَتِهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان: ۲۵) یعنی وہ اپنی راتیں عبادت الہی اور اپنے مولیٰ کے حضور قیام اور سجود میں گزارتے ہیں۔اور ایک دوسری آیت میں فرمایا :- تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا۔(السجدة: ۱۷) کہ اُن کے پہلو اپنے بستروں سے الگ ہوتے ہیں اور وہ اپنے رب کے حضور گڑ گڑاتے اور دعائیں کرتے ہیں۔