شرح القصیدہ — Page 106
شرح القصيده 1۔4 قریب پیتے تھے۔اس کے مقابلہ میں صبوح ہے جو صبح کے وقت پیتے تھے۔الْأَحْزَانُ حَزَن اور حزن کی جمع ہے۔ہم وتم۔ترجمہ۔انہوں نے شام کی شراب ترک کر دی اور اس کی لذت کے بدلے انہوں نے غم کی راتوں میں دُعا کی لذت اختیار کر لی۔شرح۔کتنا عظیم الشان انقلاب ہے۔یا تو وہ وقت تھا کہ وہ اپنی راتیں راگ و رنگ لہو ولعب اور اکل و شرب میں گزارتے تھے یا یہ حالت ہو گئی کہ وہ شب ہائے تاریک و تار میں اپنے معبود کے حضور سجدہ ریز ہو کر سوز و گداز سے دعاؤں کا لطف اٹھانے لگے۔سبحان اللہ ! کیسا نعم البدل اختیار کیا! عرب میں شراب پینے کے پانچ وقت مقرر تھے جن میں مہمانوں وغیرہ کو بھی شراب پیش کی جاتی تھی۔جالمیریہ اس شراب کو کہتے تھے جو صبح قبل طلوع آفتاب پی جاتی تھی۔اور صبوح جو بعد طلوع آفتاب پیتے تھے۔دوپہر کے وقت کی شراب کو قيل کہتے تھے۔جو پچھلے پہر شام کے قریب پیتے تھے اُس کا نام غبوق تھا۔اور رات کے وقت شراب پینا فحمہ کہلاتا تھا۔اسلام نے ظہور فرما کر پانچوں وقت لے لسان العرب میں لکھا ہے فَحَمَةُ اللَّيْلِ رات کے پہلے حصہ کو اور بعض کے نزدیک پہلے حصے میں جو سخت اندھیرا ہوتا ہے اُسے اور بعض سورج کے غروب ہونے سے لے کر سونے کے وقت تک کو فخمه کہتے ہیں۔اور ان اوقات میں شراب پینے کو بھی قتحمہ کہا جاتا مگر شراب کا نام فخمه نہیں تھا جیسے جَاشَرِيَّة ، صَبُوحُ ، غَبوق اور قیل شراب کے نام ہیں۔منہ