شرح القصیدہ

by Other Authors

Page 105 of 198

شرح القصیدہ — Page 105

شرح القصيده ۱۰۵ اور اُس نے دنیا کے اور ہزاروں لاکھوں لوگوں کو زندہ کر دیا۔مکہ کے لوگ جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی معمولی تاجر تھے۔نہ ان کو حکومت حاصل تھی ، نہ اُن میں کوئی نظام موجود تھا ، نہ انہیں کوئی عزت اور شہرت حاصل تھی ، انتہائی کس مپرسی کی حالت میں ایک گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے۔مگر دیکھو وہ لوگ آپ کے ذریعہ سے کس طرح زندہ ہو کر دنیا میں پھیل گئے۔جس طرح چیل جھپٹا مار کر اپنے شکار کو قابو میں کر لیتی ہے اسی طرح وہ دیوانہ وارد نیا میں نکلے اور بڑی بڑی حکومتوں کو اُنہوں نے تہ و بالا کر دیا۔اہلِ عرب کی حیثیت اس قدر معمولی تھی کہ ہمسایہ حکومتوں کے ادنی ادنی تحصیلدار بھی اُن کو ڈانٹ ڈپٹ کر دیا کرتے تھے۔مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آنے کے بعد اُن کی طاقت کا یہ حال ہو گیا کہ وہ بڑی بڑی حکومتوں کے ساتھ ٹکرانے لگے۔قیصر و کسریٰ کی سلطنتیں ان کے مقابلہ میں پاش پاش ہو گئیں اور بڑے بڑے بادشاہ گردن جھکائے اور ہتھیار ڈالے اُن کے سامنے حاضر ہوئے۔یہ نمونہ تھا اس احیاء کا جو اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا۔“ ( تفسیر کبیر تفسیر سورۃ الاعلیٰ زیر آیت نمبر ۲) - تَرَكُوا الْغَبُوْقَ وَ بَدَّلُوا مِنْ فَوْقِهِ ذوقَ الدُّعَاءِ بِلَيْلَةِ الْأَحْزَانِ معالی الالفاظ - الْغَبُوتی۔وہ شراب جو اہلِ عرب پچھلے پہر شام کے