شان مسیح موعود — Page 179
129 کیونکہ ان تینوں کا ایک دوسرے پر عطف کیا گیا جو اُن کے آپس میں ایک دوسرے کا خیر ہونے کو چاہتا ہے۔پس النبوة کا تصور الكتاب اور الحکم سے الگ ہوا۔اور ہر نبی کے لئے کتاب شریعت تجدیدہ کاملہ یا نا قصہ کا لانا ضروری امر نہ ہوا۔اور شریعت جدید و نبوت کی جو و ذاتی قرار نہ پائی بلکہ جبہ و عارض قرار پائی۔اسی لیئے نئی شریعت کسی نبی کو ملتی رہی ہے اور کئی انبیاء بغیر شریعت بعدیدہ کے پہلی شریعت کی تجدید کے لئے ہی آتے رہے ہیں۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نبوت قامہ کے مقابلہ میں تو شیخ صاحب کے کی نبوت نامه کامله نزدیک تمام انبیاء کرام ناقص نہی ہی تھے۔کوئی اُن میں سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے بالمقابل کامل نہ تھا۔چنانچہ شیخ صاحب لکھتے ہیں :۔(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لئے کا میں ہی تھے۔لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل ) روح اسلام ۳۲۰ ) وہ ناقص ہی تھے " (۲) تمام مامورین خدا تعالے کی طرف سے حکم ہی تھے۔لیکن وہ جس طرح حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل کال نبی نہ تھے نبی : اسی طرح وہ کامل احکم بھی نہ تھے و روج استلام من سالم) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر جب تمام انبیا میں کوئی بھی سے کامل بتی نہیں تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت ان کے مقابل ہیں