شان مسیح موعود — Page 153
۱۵۳ نبی تھے۔لہذا یہ بات طے ہو گئی کہ حضرت اقدس کا ظلی نبی انتہائی کمال کے ساتھ ہونا ہی ضمنا آپ کے حضرت علئے علیہ السلام سے فضل ہونے میں وفضل رکھتا ہے نہ کہ ناقص نکلتی نبی ہوتا تو شیخ صاحب کے نزدیک اولیاء اللہ بھی ہیں۔پس ظلی نبوت کا ملہ رکھنے کی وجہ سے ہی حضرت اقدس کو خدا کی طرف سے نی کا نام دیا گیا ہے اور دوسرے اما اولیا اللہ کو ظلی نبوت ناقصہ رکھنے کی وجہے ہی خدا کی طرف سے نبی کا نام نہیں دیا گیا کیونکہ یہ امر شیخ صاحب سلیم کر چکے ہیں :۔تی کا نام جو اور کسی ولی کو نہیں دیا گیا اور صرف حضرت اقدس کو دیا گیا وہ رحضرت عیسی علیہ السلام سے۔ناقل مماثلت نام کی وجہ سے ہی اگیا۔کیونکہ نام کسی صفت کے کمال پر جا کر ہی ملتا ہے" روح اسلام صفحه ۳۳)۔پس جب حضرت اقدس میں صفت نبوت ظلیہ کا مل طور پر پائی گئی تو آپ کا کامل صفت نبوت علیہ رکھنا دوسرے فضائل کے ساتھ مل کر حضرت اقدس کی حضر عیسی علیہ السلام پر افضلیت میں ضمنا دخل رکھتا ہے نہ کہ ظلی نبوت ناقصہ کیونکہ قص درجہ تو کامل درجہ رکھنے والے کے مقابلہ میں اس سے فضلیت کی وجہ ہو ہی نہیں سکتا۔نت (بروا يا اولي الالباب ! شیخ صاحب خدا را تخلیہ میں بیٹھ کر سوچئے اور غور کیجئے۔جب آپ کے نزدیک حضرت اقدس کی شان نبوت ضمنا حضرت عیسی علیہ اسلام سے افضلیت کی وجہ ہے تو یہ شان نبوت نفس نبوت میں حضرت عیسی علیات لام سے کم درجہ کی ہر گز نہیں ہو سکتی۔ورنہ اپنی تمام مشان میں ” اپنی " کا لفظ بے معنی ہو جائیگا