شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 642 of 670

شیطان کے چیلے — Page 642

639 سے باہم مل کر کچلنا چاہیں۔انسان کیا ہے محض ایک کیڑا۔اور بشر کیا ہے محض ایک مضغہ۔پس کیونکر میں حی و قیوم کے حکم کو ایک کیڑے یا ایک مضغہ کے لئے ٹال دوں۔جس طرح خدا نے پہلے مامورین اور مکذبین میں آخر ایک دن فیصلہ کر دیا اسی طرح وہ اس وقت بھی فیصلہ کرے گا۔خدا کے مامورین کے آنے کے لئے بھی ایک موسم ہوتے ہیں اور پھر جانے لئے بھی ایک موسم۔پس یقیناً سمجھو کہ میں نہ بے موسم آیا ہوں اور نہ بے موسم جاؤں گا۔خدا سے مت لڑو، یہ تمہارا کام نہیں کہ مجھے تباہ کر دو (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن۔جلد 17 صفحہ 50) اور فرمایا: " میں محض نصیحت اللہ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہوکر یا الگ الگ میرے پر بددعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں پھر اگر میں کا ذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی۔اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کے زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوؤں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ وزاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہو جائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔۔کوئی -------- زمین پر مر نہیں سکتا جب تک آسمان پر نہ مارا جائے۔میری روح میں وہی سچائی ہے جو ابراہیم علیہ السلام کو دی گئی تھی۔مجھے خدا سے ابراہیمی نسبت ہے۔کوئی میرے بھید کو نہیں جانتا مگر میرا خدا۔مخالف لوگ عبث اپنے تیں تباہ کر رہے ہیں۔میں وہ پودا نہیں ہوں جو ان کے ہاتھ سے اکھڑ سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے خدا ! تو اس امت پر رحم کر۔آمین ( اربعین نمبر 4۔روحانی خزائن۔جلد 17 صفحہ 472 473) یا رو جو مرد آنے کو تھا وہ تو آپکا یہ راز تم کو شمس و قمر بھی بتا چکا