شیطان کے چیلے — Page 641
638 تھیں۔مگر انجام کار وہ اپنی ناکامی اور نامرادی اور آنحضرت ﷺ کی کامیابی اور کامرانی کے سوا کچھ نہ دیکھ سکے۔پس الیاس صاحب ! اگر آپ کو بھی حضرت مسیح زماں و مہدی دوراں پر ایمان نصیب نہیں ہوا تو آپ کیئے یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔یہ آپ کی محرومی اور بدنصیبی ہے۔اس بدنصیبی پر اگر آپ مطمئن ہیں تو یہ آپ کا نصیب ہے۔آپ بھی انجام کاراپنی ناکامیوں اور محرومیوں کا منہ ہی دیکھیں گے۔نیز احمدیت کو ہر روز بڑہتا ہوا اور پھولتا پھلتا ہوا ہی دیکھیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کی اس آواز کو ذرا بگوش ہوش سنیں جو گزشتہ 100 سال سے ڈنکے کی چوٹ پر اپنی سچائی کا ثبوت دے رہی ہے۔اور اس دور کے مامور من اللہ کی یہ باتیں قیامت تک مزیدشان و شوکت کے ساتھ پوری ہوتی رہیں گی۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں : دنیا مجھ کو نہیں پہنچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔اور سراسر بد قسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔اے لوگو ! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر وقت تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کیلئے دعائیں کریں اور یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہر گز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔اور اگر انسانوں میں سے ایک بھی میرے ساتھ نہ ہو تو خدا کے فرشتے میرے ساتھ ہونگے۔اور اگر تم گواہی کو چھپاؤ تو قریب ہے کہ پتھر میرے لئے گواہی دیں۔پس اپنی جانوں پر ظلم مت کرو۔کا ذبوں کے اور منہ ہوتے ہیں اور صادقوں کے اور۔خدا کسی امر کو بغیر فیصلہ کے نہیں چھوڑتا۔میں اس زندگی پر لعنت بھیجتا ہوں جو جھوٹ اور افتراء کے ساتھ ہو اور نیز اس حالت پر بھی کہ مخلوق سے ڈر کر خالق کے امر سے کنارہ کشی کی جائے۔وہ خدمت جو عین وقت پر خداوند قدیر نے میرے سپرد کی ہے اور اسی کے لئے مجھے پیدا کیا ہے ہر گز ممکن نہیں کہ میں اس میں ستی کروں۔اگر چہ آفتاب ایک طرف سے اور زمین ایک طرف