شیطان کے چیلے — Page 643
640 وو آخری بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یہ بھی سنت اللہ ہے کہ ہر ایک شخص جو خدا کی طرف سے آتا ہے بہت سے کو نہ اندیش ناخدا ترس اس کی ذاتیات میں دخل دے کر طرح طرح کی نکتہ چینیاں کیا کرتے ہیں۔کبھی اس کو کا ذب ٹھہراتے ہیں کبھی اس کو عہد شکن قرار دیتے ہیں اور کبھی اس کو لوگوں کے حقوق تلف کرنے والا اور مال خور اور بددیانت اور خائن قرار دیدیتے ہیں کبھی اس کا نام شہوت پرست رکھتے ہیں اور کبھی اس کو عیاش اور خوش پوش اور خوش خور سے موسوم کرتے ہیں اور کبھی جاہل کر کے پکارتے ہیں۔اور کبھی اس کو ان صفت سے شہرت دیتے ہیں کہ وہ ایک خود پرست متکبر بدخلق ہے۔لوگوں کو گالیاں دینے والا اور اپنے مخالفین کو سب وشتم کرنے والا بخیل زر پرست کذاب دجال بے ایمان خونی ہے۔یہ سب خطاب ان لوگوں کی طرف سے خدا کے نبیوں اور ماً مورین کو ملتے ہیں جو سیاہ باطن اور دل کے اندھے ہوتے ہیں۔چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام کی نسبت بھی یہی اعتراض اکثر خبیث فطرت لوگوں کے ہیں کہ اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو رغبت دی کہ تا وہ مصریوں کے سونے چاندی کے برتن اور زیور اور قیمتی کپڑے عاریتا مانگیں اور محض دروغگوئی کی راہ سے کہیں کہ ہم عبادت کے لئے جاتے ہیں چند روز تک تمہاری یہ چیزیں لا کر دیں گے اور دل میں دعا تھا۔آخر عہد شکنی کی اور جھوٹ بولا اور بیگانہ مال اپنے قبضہ میں لا کر کنعان کی طرف بھاگ گئے۔اور درحقیقت یہ تمام اعتراضات ایسے ہیں کہ اگر معقولی طور پر ان کا جواب دیا جائے تو بہت سے احمق اور پست فطرت ان جوا بات سے تسلی نہیں پاسکتے اس لئے خدا تعالیٰ کی عادت ایسے نکتہ چینوں کے جواب میں یہی ہے کہ جولوگ اس کی طرف سے آتے ہیں ایک عجیب طور پر ان کی تائید کرتا ہے اور متواتر آسمانی نشان دکھلاتا ہے یہانتک کہ دانشمند لوگوں کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔اور وہ سمجھ لیتے ہیں کہ اگر یہ شخص مفتری اور آلودہ دامن ہوتا تو اس قدر اس کی تائید کیوں ہوتی۔کیونکہ ممکن نہیں کہ خدا ایک مفتری سے ایسے پیار کرے جیسا کہ وہ اپنے صادق دوستوں سے پیار کرتا رہا ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔