شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 599 of 670

شیطان کے چیلے — Page 599

596 اردو بائیبل کی کتاب استثنا کے باب 21 آیت 23 ہیں لکھا ہے۔” کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون (لعنتی ) ہے۔“ لیکن یہ جملہ اردو بائیل کی کتاب استثنا میں بغیر بریکٹ کے ہے جب کہ انگلش بائیل میں بریکٹ میں تحریر کیا گیا ہے۔یہ انگلش بائیل نصاری کی شائع کردہ ہے۔یہودیوں کی شائع کردہ نہیں ہے۔نصاریٰ کی شائع کردہ انگلش بائییل کے باب 21 آیت نمبر 23 کا عکس ملاحظہ فرمائیں۔23۔His body shall not remain all night upon the tree, but thou shalt in any wise bury him that day; {for he that is hanged is accursed of God; (B-Gal۔3۔13)} that thy land be not defiled, which the LORD thy God giveth thee for an inheritan بریکٹ کا استعمال کر کے انگلش بائیل میں قارئین پر واضح کیا گیا ہے۔کہ جملہ کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے، بائیبل کے باب استثنا کا نہیں۔بلکہ پولوس کا ذاتی قول ہے۔جسے پولوس نے گلیو کے باب 3 آیت 13 میں لکھا ہے۔اوپر انگلش بائیل میں بھی حوالہ B سے اسے واضح کیا ہے کہ یہ (13-3-GAL) سے لیا گیا ہے“ اوّل تو حیرت کی بات یہ ہے کہ الیاس ستار یہ دعوی کس طرح کر سکتا ہے کہ شریعت موسوی کے احکام پر مشتمل کتاب استثنا میں کئی سو سال بعد آنے والے عیسائی پولوس کا قول درج کر دیا گیا۔اگر ایسا ہوتا، تو ناممکن تھا کہ یہودی اس پر احتجاج کئے بغیر رہ سکتے بلکہ وہ اس کی کھلم کھلا تکذیب و تردید کرتے۔کجا یہ کہ وہ اس قانون کو اپنا کر اپنی مطبوعہ بائیبل میں درج کرتے۔دوسرے یہ کہ الیاس ستار بریکٹ کی وجہ سے اسے پولوس کا ذاتی قول قرار دیتا ہے۔آخر اس کی کوئی دلیل بھی ہونی چاہئے۔کیا نصاری کی مطبوعہ انگریزی بائیل میں کسی عبارت پر بریکٹ کا یہ مطلب ہوتا ہے۔کہ وہ پولوس کا ذاتی قول ہے؟ تیسرے یہ کہ جب صاف اور واضح طور پر پولوس ایک بات کو کیونکہ لکھا ہے“ کہہ کر Quote کر رہا ہے۔تو اسے اس کا اپنا قول قرار دینا نہ صرف یہ کہ قطعی غلط دعوی ہے بلکہ ہٹ دھرمی بھی ہے۔پولوس کی ساری تقریروں اور خطوط وغیرہ کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ جب شریعت کی کسی تعلیم یا قانون کی بات کرتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ " کیونکہ لکھا ہے“ یا ” جیسا کہ لکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ