شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 598 of 670

شیطان کے چیلے — Page 598

595 پھر وہ دعویٰ کرتا ہے کہ و لعنتی موت کا تصور پولوس نے حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیبی واقعہ کے کئی برس کے بعد ایجاد کیا۔مصنف پولوس کی کتاب گلتیوں باب نمبر 13 میں لکھا ہے۔” کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا و لعنتی ہے۔“ معزز قارئین! الیاس ستار کا یہ بے دلیل دعوی اس کا ایک سفید جھوٹ ہے۔کیونکہ اس نے خود کتب مقدسہ کا محاورہ ” کیونکہ لکھا ہے درج کر کے تسلیم کیا ہے۔کہ پولوس نے گلتیوں باب 3 آیت 13 میں جب اس قانون کا ذکر کیا تو وہاں اس نے اپنی طرف سے کوئی قانون نہیں بنایا بلکہ پہلی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔اس حوالہ۔66 66 ،، کا تتبع کرتے ہوئے الیاس ستار خود اصل قانون تک پہنچا بھی ہے مگر پھر دیانتداری کا دامن چھوڑ گیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پولوس کی یہ طرز خود بتا رہی ہے کہ وہ شریعت کے اس قانون کا ،شریعت کی کتب مقدسہ سے اسی طرح حوالہ دے رہا ہے، جس طرح انا جیل میں جگہ جگہ حضرت عیسی علیہ السلام نے ” جیسا کہ لکھا ہے اور ” کیونکہ لکھا ہے وغیرہ وغیرہ فرما کر شریعت کے قوانین کے حوالے دیئے ہیں۔اور ایسے نمونے پرانے عہد نامہ میں بھی ہر جگہ ملتے ہیں۔یہ وہ طرز بیان ہے جو اس زمانہ میں رائج تھی۔اسی طرز کو حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی اختیار فرمایا۔اور پھر پولوس نے بھی۔لہذا الیاس ستار کی الٹی منطق ہی خود اس کے جھوٹ کا ثبوت ہے۔کیونکہ وہ احکام اور پیشگوئیاں جن کی طرف حضرت عیسی علیہ السلام نے ” لکھا ہے“ وغیرہ کہہ کر اشارہ فرمایا، کتب مقدسہ میں ان کا حوالہ ملتا ہے۔بعینہ اسی طرح شریعت موسوی کے اس حکم کا بھی ذکر ملتا ہے جو استثنا باب 21 آیت 23 میں درج ہے۔جس کا پولوس نے حوالہ دیا ہے۔لیکن الیاس ستار محض ہٹ دھرمی کی وجہ سے یا پھر کم علمی کی بناء پر شریعت موسوی کے نزول کے کئی صدیوں بعد اسے پولوس کی طرف منسوب کر کے اس کا ذاتی قول قرار دیتا ہے۔قارئین اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ شخص جو صدیوں پہلے کی ایک کتاب استثناء کی عبارت کو صدیوں بعد آنے والے پولوس کی طرف منسوب کرے، اس کی ذہنی حالت کیسی ہے۔ایسا شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی اور اس میں عیسائیت کے بگاڑ کی تاریخ کو کس طرح سمجھ سکتا ہے۔ظاہر ہے کہ یہ شخص اپنی دماگی افتاد کے گھن چکر میں بالکل چکرا گیا ہے۔لیکن وہ پھر لکھتا ہے: