شیطان کے چیلے — Page 600
597 کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ، گلیوں کے باب 3 کو ہی شروع سے آخر تک پڑھیں۔اس نے تقریباً ہر آیت میں شریعت ہی کی کوئی بات کی ہے۔اور بار بار مذکورہ بالا طرز اختیار کرتے ہوئے کیونکہ لکھا ہے“ وغیرہ الفاظ ہی استعمال کئے ہیں۔چنانچہ اس کے ان اقوال کے حوالے کتب مقدسہ میں ملتے ہیں۔پس الیاس ستارکو تقوی سے کام لینا چاہئے۔اور اس طرز کلام کو مد نظر رکھنا چاہئے جو پولوس نے اختیار کی۔اسے خواہ مخواہ تکذیب حق کے لئے کذب صریح نہیں بولنا چاہئے۔بہر حال اس کو بھی سوجھی عجیب ہے۔وہ کہتا ہے کہ بریکٹ کا استعمال کر کے انگلش بائیل میں قارئین پر واضح کیا گیا ہے کہ یہ جملہ کیونکہ جسے پھانسی ملتی ہے وہ خدا کی طرف سے ملعون ہے، بائیبل کے باب استثنا کا نہیں بلکہ پولوس کا ذاتی قول ہے۔جیسے پولوس نے گلیو کے باب 3 آیت 66 13 میں لکھا ہے۔“ اول تو اردو کی بائیل میں بریکٹوں کے نہ ہونے اور انگریزی بائیبل میں بریکٹوں کے ہونے سے دنیا کی کسی منطق کی رو سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ایک اضافی یا الحاقی عبارت ہے۔چنانچہ الیاس ستار کی اپنی تحریر بھی خود اس کی تردید کرتی ہے۔چنانچہ اس نے یہود کی شائع کردہ جس انگریزی بائیبل سے جو حوالہ پیش کیا ہے۔اس پر بھی بریکھیں نہیں ہیں۔پس خود تر دیدی تو خود ا سکے اپنے بیان میں موجود ہے۔تو یہ ثابت کیا کرنا چاہتا ہے؟ دوم یہ کہ کتاب مقدس کا وہ نظر ثانی شدہ معیاری نسخہ جو کہ عیسائیوں کا شائع کردہ ہے۔اور جس پر یہ بھی لکھا ہوا ہے۔کہ "Translated from the original Tongues being the version set forth A۔D۔1611 Revised A۔D۔1881-1885 and A۔D۔1901 Compared most ancient authoritiess and revised A۔D۔with the 1952۔۔Thomas Nelson and Sons Ltd نے یہ نسخہ لنڈن سے شائع کیا۔اس میں استثنا باب 12 آیت 23 میں مذکورہ آیت میں کوئی بریکٹ نہیں۔پس الیاس ستار کی تعلمی خود اسی کو جھوٹا ثابت کرتی ہے۔