شیطان کے چیلے — Page 595
592 کیونکہ جن لفظوں میں بدھ نے ان کو منیا کی امید دی تھی۔وہ لفظ صریح دلالت کرتے ہیں کہ اس کے شاگرد تیا کو پائیں گے۔اب کتاب مذکورہ کے اس بیان سے بخوبی یہ بات دلی یقین پیدا کرتی ہے۔کہ خدا نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دونوں طرف سے اسباب پیدا کر دیے تھے۔۔اور اس میں کوئی شک نہیں کر سکتا کہ وہ اخلاقی تعلیمیں اور روحانی طریقے جو بدھ نے قائم کئے تھے حضرت مسیح کی تعلیم نے دوبارہ دنیا میں ان کو جنم دیا ہے۔“ مندرجہ بالا اقتباسات یعنی مرزا صاحب کی باتوں سے سولہ آنے ثابت ہوتا ہے۔کہ سارے بدھ مت والوں کی طرف حضرت عیسی بھیجے گئے تھے۔اور صرف ان بدھ مت والوں تک محدود نہیں تھے جو بنی کیا احمدی قادیانی جواب دے سکتے ہیں۔صفحہ 17 تا 19) اسرائیلی تھے۔اٹھاتے الیاس ستار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حسب ذیل تحریر بھی اس ضمن میں درج کی ہے اور دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ حسب منشاء بدھ کی پیشگوئی کے بدھ کے معتقد آپ کو دیکھتے اور فیض (مسیح ہندوستان میں صفحہ 82) معزز قارئین! ان عبارتوں میں ایک فقرہ بھی ایسا نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو۔کہ حضرت عیسی علیہ السلام ان بدھوں کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔جو غیر اسرائیلی تھے۔یا اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ہر بدھ مذہب والے کے پاس بھیجا تھا۔الیاس ستار نے ان تحریروں سے یہ غلط استدلال خود بخود وضع کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ کے شروع میں واضح طور پر یہ تاریخی حقیقت بھی درج فرمائی ہے کہ در حقیقت وہی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں جنہوں نے ان ملکوں میں آ کر اپنے باپ دادے کا مذہب بھی ترک کر دیا تھا اور اکثر ان کے بدھ مت میں داخل ہو گئے تھے۔“ مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 17 ) پس واضح ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو غیر اسرائیلیوں کی طرف بھیجا تھا، نہ ہی حضرت عیسی علیہ السلام کبھی اپنا فرض منصبی سمجھ کر غیر اسرائیلیوں کی طرف گئے۔اور نہ ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کا وہ مطلب ہے جو الیاس ستار پیش کرتا ہے۔