شیطان کے چیلے — Page 594
591 یہی بات علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں اور نواب صدیق حسن خان صاحب نے تفسیر فتح البیان میں لکھی ہے تا کہ مسلمان بھی عیسائیوں کی تتبع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جسم عنصری زندہ آسمانوں پر مقیم نہ سمجھ بیٹھیں۔پس الیاس ستار خاطر جمع رکھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت سے نجات کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کا جو ایک سچا عقیدہ پیش فرمایا تھا، اس کو اس نے اگر تسلیم کیا ہے تو اس کے ساتھ علمائے امت میں سے بھی بہت لوگ ہیں جو قرآن وحدیث اور تاریخ کی روشنی میں اسی بچے نتیجہ تک پہنچے ہیں۔(3) وو عیسی علیہ السلام کی ہجرت اور بدھ مت الیاس ستار نے لکھا ہے۔کہ اس بات پر جو مرزا صاحب ” مسیح ہندوستان میں“ کے صفحہ 84 پر لکھتے ہیں۔غور کیجئے۔بدھ نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے شاگردوں کو یہ امید دی تھی کہ بگو امتیا ان کے ملک میں آئے گا۔اس بنا پر کوئی بدھ والا جو اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہو اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا، کہ وہ بگو امتیا جس کا دوسرا نام مسیحا ہے اس ملک میں آیا تھا، کیونکہ پیشین گوئی کا باطل ہونا مذ ہب کو باطل کرتا ہے۔“ اس اقتباس سے ظاہر ہوتا ہے ، کہ اللہ نے حضرت عیسی کو ہر بدھ کے ماننے والے کے پاس بھیجا، کہ نہ صرف ان کے پاس جن کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔مرزا صاحب کا بھی یہی خیال ہے کہ حضرت عیسی کو ہر بدھ مذہب کے ماننے والے کے پاس بھیجا گیا کیونکہ وہ کہتے ہیں اوپر کی تحریر میں کہ ” کوئی بدھ مت والا جو اس پیشین گوئی پر اطلاع رکھتا ہو مزید حوالے ملاحظہ کیجئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر بدھ والے کے پاس حضرت عیسی بھیجے گئے چاہے وہ بنی اسرائیل سے تعلق رکھتا ہو یا نہیں۔یہ ساری باتیں مرزا صاحب کی تحریر سے ثابت ہو رہی ہیں۔غور کیجئے اس بات پر جو مرزا صاحب ” مسیح ہندوستان میں“ کے صفحہ 81-82 میں لکھتے ہیں۔تو اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ بدھ کے رنگ پر ظہور فرما ہوئے تھے اور کتاب اولڈ برگ میں بحوالہ بدھ کی کتاب لکاوتی ستنا کے لکھا ہے کہ بدھ کے معتقد آئندہ زمانہ کی امید پر ہمیشہ اپنے تئیں تسلی دیتے تھے کہ وہ متیا کے شاگرد بن کر نجات کی خوشحالی حاصل کریں گے یعنی ان کو یقین تھا۔کہ متیا ان میں آئے گا۔اور وہ اس کے ذریعہ سے نجات پائیں گے