شیطان کے چیلے — Page 596
593 در حقیقت بنی اسرائیل جو ان ملکوں میں آ کر بدھ مذہب اختیار کر چکے تھے وہ حضرت بدھ علیہ السلام کے شاگرد بن چکے تھے۔چنانچہ انہوں نے حضرت بدھ علیہ السلام کی پیش گوئیوں سے فائدہ اٹھایا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو قبول کیا اور حسب پیش گوئی نجات حاصل کی۔الیاس ستار محض بے ثبوت بات کرتا ہے وہ یہ ہر گز ثابت نہیں کر سکتا کہ اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے۔جو غیر اسرائیلی تھے۔اگر بفرض محال کوئی غیر اسرائیلی حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لایا بھی ہو تو اس میں حضرت عیسی علیہ السلام کا غیر اسرائیلیوں کی طرف مبعوث ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔الیاس ستار خود کھینچ تان کر حضرت عیسی علیہ السلام کو غیر اسرئیلیوں کی طرف بھیجا ہوا ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ غیر اسرائیلی بھی اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لا کر عیسائی ہو گئے تھے۔لیکن آپ کی تحریر میں یہ حتمی ثبوت مہیا کرتی ہیں کہ وہ لوگ جو اسرائیلی تھے۔لیکن بدھ مذہب اختیار کر چکے تھے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان ملکوں میں آنے سے آپ پر ایمان لے آئے تھے کیونکہ یہی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑیں تھیں جن کی طرف جانا اور ان کو تلاش کرنا آپ کا مشن اور آپ کا فرض منصبی تھا۔یہ بات بالکل الگ ہے کہ حضرت بدھ علیہ السلام کی پیش گوئیوں کے مطابق بدھ مذہب والے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کی امید میں تھے اور آپ کے آنے پر وہ آپ کو ملے بھی ہوں گے اور آپ سے برکت و فیض بھی حاصل کرتے ہوں گے۔لیکن آپ کا بنیادی اور اصل مشن تو رَسُولا إلى بَنِي اسرائیل تھا۔اور یہی آپ کا فرض منصبی تھا لیکن غیر یہودی اور غیر اسرائیلی لوگوں سے ملنا، ان سے گفتگو کرنا آپ کے لئے حرام تو نہیں تھا اور نہ ہی دوسروں کا آپ سے فیض اور برکت حاصل کرنا حرام تھا۔اگر ایسا تھا تو الیاس ستار کو اس بات کا ثبوت مہیا کرنا چاہئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے کسی غیر اسرائیلی سے کبھی نہ بات کی اور نہ ہی کسی نے آپ سے فیض حاصل کیا۔الغرض ایک بے ثبوت بات کو پیٹتے چلے جانا کسی صاحب فہم انسان کا شیوہ نہیں۔الیاس صاحب! حضرت عیسی علیہ السلام کا ہجرت کرنا، افغانستان، کشمیر وغیرہ علاقوں میں آباد بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس آتے ہوئے بدھ علیہ السلام کی پیش گوئی کے مطابق راستہ میں بدھ