شیطان کے چیلے — Page 593
590 ایک عرصہ ہو گیا ہے۔کیونکہ یہ اور ان کے ہم سرشت دیگر لوگ اور ان کو سرٹیفیکیٹ دینے والے ان کے بزرگ تو بہت دور کی کوڑی لاتے ہیں اور حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔حالانکہ انہیں علم ہونا چاہئے تھا کہ کشمیر تو آسمان کے مقابلہ میں بہت قریب ہے۔اندازہ کریں کہ وہ اتنی سی بات بھی نہیں سمجھتے تھے۔جو شکر ہے کہ اب الیاس ستار سمجھ گیا ہے اور اپنے ساتھیوں کو بھی سمجھانے لگا ہے۔پس اب اسے چاہئے کہ ان کو مزید سمجھائے کہ آسمان پر جانا، کشمیر جانے کی نسبت مشکل ہی نہیں بالکل ناممکن ہے۔کیونکہ غیر متعین آسمان کی طرف شدید سردی اور تہ بہ تہ گیسوں اور دیگر کثافتوں میں سالہا سال پر مبنی ، روشنی کی رفتار سے ایسی حالت میں سفر کرنا کہ جسم پر ایک ہی کپڑا ہو ممکن ہی نہیں۔لیکن اس کے برعکس خدا تعالیٰ کی منشا کے مطابق اور اس کی تائید کے ساتھ زمین پر چند سو میل کا سفر کر کے کشمیر پہنچنا بہت آسان ہے۔الاستاذ علامہ رشید رضا مفتی مصر، مصنف تفسیر المنار اور مدیر مجلہ المنار (المتوفی 1935 ء) بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی صلیبی موت سے نجات کے بارہ میں ایک طویل بحث کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ففراره الى الهند و موته فى ذلك البلدة ليس ببعيد عقلا و نقلا“ (المنار جلد 5 نمبر 11 صفحہ 109 - 1913ء۔زیر عنوان القول بحجر المسح الى الهند وموته في بلدة سر بيگر في كشمير ترجمہ :۔ان ( یعنی مسیح علیہ السلام) کا ہندوستان جانا اور ان کی اس ملک میں موت عقل اور نقل کی رو سے بعید نہیں ہے۔پس الیاس صاحب! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیبی موت سے نجات پا کر ہجرت کر کے کشمیر آنا بہت آسان ہے اور ایک ایسی سچائی ہے۔جس کی تائید قرآن کریم، احادیث، تاریخ اور اناجیل اور علامہ رشید رضا کی طرح بہت سے علمائے امت کے اقوال کرتے ہیں جبکہ ان کا آسمان پر جانا ایک ایسا مسئلہ ہے، جس نے عیسائیت کی کوکھ سے جنم لیا ہے اور اسی نے اس کو تقویت دی۔اسلام سے اس عقیدہ کا کوئی تعلق نہیں۔چنانچہ حضرت علامہ زرقانی فرماتے ہیں۔زاد المعاد میں جو یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام 33 برس کی عمر میں مرفوع ہو گئے کوئی متصل حدیث اس بارہ میں نہیں ملتی۔شامی کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ نصاری سے مروی ہے۔“ ( شرح زرقانی علامہ محمد بن عبد الباقی جز اول صفحہ 34 الطبعة الاولى بالمطبعۃ الازہر یہ المصریہ 1325ھ)